اسلام آباد ۔ 3 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ ہمارا ایکو سسٹم قدرت کا عظیم تحفہ ہے، جومعاشرہ جانوروں سے محبت نہیں کرتا وہ تنزلی کا شکار ہوتا ہے، جنگلی حیات سے محبت بھی معاشرے کا ایک پہلو ہے، نااہلی ملکی ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے، کرپشن کے باعث ملک میں حالات بہتر نہیں ہو رہے، اگلے …
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین کا وائلڈ لائف سے متعلق تربیتی ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ ہمارا ایکو سسٹم قدرت کا عظیم تحفہ ہے، جومعاشرہ جانوروں سے محبت نہیں کرتا وہ تنزلی کا شکار ہوتا ہے، جنگلی حیات سے محبت بھی معاشرے کا ایک پہلو ہے، نااہلی ملکی ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے، کرپشن کے باعث ملک میں حالات بہتر نہیں ہو رہے، اگلے دو تین سال میں نیچرل ہسٹری میوزیم کو بہتر کریں گے۔ بدھ کومیوزیم آف نیچرل ہسٹری میں وائلڈ لائف سے متعلق 15روزہ تربیتی ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے اورقدرت نے ہمیں ایکو سسٹم کا عظیم تحفہ دیا ہے،خطہ پوٹھوہار اور ہزارہ کبھی دیوقامت جانوروں کا مسکن تھا جو زمانے کے تغیرات سے اب ناپید ہوچکے ہیں لیکن ان کی باقیات میوزیم آف نیچرل ہسٹری نے محفوظ کررکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کہ افسوس کی بات ہے کہ اسلام آباد میں نیچرل ہسٹری میوزیم کے بارے میں بیشتر افراد کو علم ہی نہیں ہے، حتی کہ اس میوزیم میں جہلم کے ہاتھی کا 700 سال پرانا ہاتھی دانت بھی رکھا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نااہلیت اور جنگلی حیات سے متعلق عوامی آگاہی نہ ہونے سے گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستان میں بہت سی جنگلی حیات ختم ہوگئی ہےں اور بعض کو ناپید ہونے کے خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت وائلڈ لائف کے تحفظ کیلئے مستقل بنیادوں پر کنزرویشن سنٹر قائم کرنے کی خواہاں ہے۔ انہوں نے اسلام آباد کے چڑیا گھر کی زبوں حالی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جانوروں کو مارنے کیلئے چڑیا گھر نہ بنائے جائیں یا تو ان کا بھرپور خیال رکھیں یا انہیں جانے دیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد چڑیا گھر کے شیروں کے لئے آنے والی مرغیاں ڈائریکٹر کے گھر میں پکائی جاتی تھیں جبکہ میئر صاحب ہاتھی کو جپھی مار کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایک ہاتھی کے مرنے کے بعد چڑیا گھر کا دوسرا ہاتھی ذہنی بیمار ہو گیا۔ انہوں نے انتظامیہ سے کہا کہ یا تو ہاتھی کا علاج کریں یا ان کو جانے دے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگلے دو تین سال میں نیچرل ہسٹری میوزیم کو بہتر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم ان لوگوں کو لانا چاہتے ہیں جن کے دل اس ملک سے جڑے ہوئے ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ جنگلی حیات سے محبت بھی معاشرے کا ایک پہلو ہے، ہم تو انسانوں سے محبت بھی کم کر بیٹھے ہیں، جو معاشرہ جانوروں سے محبت نہیں کرتا وہ تنزلی کا شکار ہوتا ہے، ہمارا ایکو سسٹم قدرت کا عظیم تحفہ ہے ،ہم اس کے تحفظ کیلئے بھر پور اقدامات کر رہے ہیں۔ڈائریکٹر جنرل میوزیم آف نیچرل سائنس ڈاکٹر محمد رفیق نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد پر روشی ڈالی اور شرکاءکا شکریہ ادا کیا۔








