وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ کا سعودی کمپنی کیان کے وفد کا خیرمقدم، دونوں ممالک کے مابین اقتصادی اور سرمایہ کاری تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور

اسلام آباد۔11فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) قیصر احمد شیخ نے سعودی عرب کی کمپنی کیان کے وفد کا پاکستان کے دورے کے موقع پر خیرمقدم کیا۔ وفد نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے زیر اہتمام منعقدہ ’’انڈس اے آئی ویک‘‘ میں شرکت کی۔وفاقی وزیر نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے …

اسلام آباد۔11فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) قیصر احمد شیخ نے سعودی عرب کی کمپنی کیان کے وفد کا پاکستان کے دورے کے موقع پر خیرمقدم کیا۔ وفد نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے زیر اہتمام منعقدہ ’’انڈس اے آئی ویک‘‘ میں شرکت کی۔وفاقی وزیر نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین اقتصادی اور سرمایہ کاری تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔کیان وفد نے پاکستان میں توانائی، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور لائیوسٹاک کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

وفد نے مختلف ممکنہ منصوبوں کیلئے فی منصوبہ کم از کم 200 ملین امریکی ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری کی تجاویز پیش کیں اور مزید سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان لانے میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔ قیصر احمد شیخ جو کاروباری پس منظر رکھتے ہیں، نے کہا کہ وہ سرمایہ کاروں کے نقطہ نظر اور ضروریات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مشترکہ منصوبوں اور سٹریٹجک شراکت داری کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ 25 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ پاکستان ایک بڑی اور متحرک منڈی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے سٹریٹجک جغرافیائی محل وقوع کو بھی اجاگر کیا جو وسطی ایشیا کے لینڈ لاک ممالک تک رسائی فراہم کرتا ہے اور اسے علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کا ایک پرکشش مرکز بناتا ہے۔

بورڈ آف انویسٹمنٹ کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بی او آئی پالیسی معاونت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے سرمایہ کاروں کو فعال سہولت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر بزنس فسیلیٹیشن سینٹر (بی ایف سی) کا ذکر کیا جو سرمایہ کاروں کو سنگل ونڈو سہولت فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے منظوریوں کے عمل کو ہموار بنایا جاتا ہے، پراسیسنگ وقت کم کیا جاتا ہے اور آپریشنل مسائل کے موثر حل کو یقینی بنایا جاتا ہے۔وفاقی وزیر نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ مکمل سہولت اور معاونت فراہم کرے گا جس میں کاروباری برادری سے ملاقاتوں کا اہتمام اور سپیشل اکنامک زونز (ایس ای زیز) کے دورے شامل ہیں۔ انہوں نے ایس ای زیز میں دستیاب مراعات بشمول انکم ٹیکس اور درآمدی ڈیوٹی میں استثنیٰ سے آگاہ کیا جبکہ سپیشل ٹیکنالوجی زونز (ایس ای زیز) میں موجود سہولیات پر بھی بریفنگ دی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کاروباری ماحول کو بہتر بنانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کیلئے جامع اور موثر ریگولیٹری اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔وفاقی وزیر نے سعودی وزیر برائے سرمایہ کاری کے حالیہ دورہ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مل کر دوطرفہ سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کی قیادت میں سرمایہ کاروں کو ہرممکن سہولت فراہم کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ کیلئے پرعزم ہے۔