وفاقی وزیر سینیٹر مشاہد اﷲ خان کی قدرتی آفتوں میں کمی لانے کے عالمی دن کے موقع پر میڈیا سے بات چیت

اسلام آباد ۔ 13 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اﷲ خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں عالمی حدت کے باعث رونما ہونے والی تباہ کاریوں میں مزید اضافہ اور شدت آنے کے امکانات ہیں تاہم ان سے نمٹنے کےلئے مختلف ترکیبوں کے متعلق ملکی سطح پر آگاہی پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوامِ متحدہ کے زیر ِانتظام دنیا بھر …

اسلام آباد ۔ 13 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اﷲ خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں عالمی حدت کے باعث رونما ہونے والی تباہ کاریوں میں مزید اضافہ اور شدت آنے کے امکانات ہیں تاہم ان سے نمٹنے کےلئے مختلف ترکیبوں کے متعلق ملکی سطح پر آگاہی پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوامِ متحدہ کے زیر ِانتظام دنیا بھر میں ہر سال 13 اکتوبر کو منائے جانے والے آفتوں میں کمی لانے کے عالمی دن کے حوالہ سے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوے کیا۔ سینیٹر مشاہد اﷲ خان نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر اس بات کی ماہرین کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ لوگوں کی جانوں اور ذریعہ معاش کو موسمیاتی تباہ کاریوں کے اثرات سے بچانے کےلئے لوگوں میں مختلف تکنیکیوں کے متعلق آگاہی پیدا کرنا پہلا اور اہم اقدام ہے۔ آفتوں میں کمی لانے کا عالمی دن ہر سال 13 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اس سال یہ دن آفتوں سے محفوظ گھر، نقل مکانی سے نجات کے موضوع کے تحت منایا جا رہا ہے۔ ایک تازہ عالمی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مشاہد اللہ خان نے کہا کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں 11 ہزار کے لگ بھگ موسمی تباہ کاریوں کے واقعات رونما ہوئے ہیں جس کے نتیجہ میں 5 لاکھ 28 ہزار لوگ موت کا شکار ہوئے اور ان تمام تباہ کاریوں کے عالمی معیشت پر منفی اثرات کا کل تخمینہ 3 ٹریلین امریکی ڈالرز سے زائد کا لگایا گیا ہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply