وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی مخدوم خسرو بختیارکی چیئرمین این ڈی ایم اے اور معاون خصوصی برائے صحت کے ہمراہ پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 23 مارچ (اے پی پی)وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ ملک میں ضرورت کے مطابق تمام اجناس اور اشیاءخوردونوش کے ذخائر موجود ہیں، رواں سال 82 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کریں گے، بحران کے اس دور میں سپلائی چین مینجمنٹ کو برقرار رکھنے اور رابطہ کاری کی ضرورت ہوگی، وفاقی سیکرٹری نیشل فوڈ سیکورٹی اور چاروں صوبائی سیکرٹریز خوراک پر …

اسلام آباد ۔ 23 مارچ (اے پی پی)وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ ملک میں ضرورت کے مطابق تمام اجناس اور اشیاءخوردونوش کے ذخائر موجود ہیں، رواں سال 82 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کریں گے، بحران کے اس دور میں سپلائی چین مینجمنٹ کو برقرار رکھنے اور رابطہ کاری کی ضرورت ہوگی، وفاقی سیکرٹری نیشل فوڈ سیکورٹی اور چاروں صوبائی سیکرٹریز خوراک پر مشتمل ہے ،کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر رابطہ کرے گی وزیراعظم خود بھی اس کی مانیٹرنگ کریں گے۔پیر کو یہاں چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مخدو خسرو بختیار نے کہا کہ ملک میں اس وقت ضرورت کے مطابق 90 فیصد اجناس موجود ہیں، گندم اور آٹا ہماری خوراک کا لازمی جزو ہے، گزشتہ سیزن کا اٹھارہ لاکھ ٹن گندم دستیاب ہے، بدھ کے دن سے سندھ میں پاسکو اور سندھ حکومت کی جانب سے خریداری شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال حکومت نے 82 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کا ہدف مقرر کیا ہے جس پر 288 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ گزشتہ سال چالیس لاکھ ٹن گندم کی خریداری کی گئی تھی، ملک میں پورے سال کیلئے ضرورت کے مطابق گندم دستیاب ہے عوام غیرضروری خریداری اور اسٹاک نہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح ملک میں 70 لاکھ ٹن چاول کی پیداوار ہوتی ہے، پاکستان کی ضرورت 35 لاکھ ٹن ہے، پاکستان زیادہ تر دالیں امپورٹ کر رہا ہے تاہم ملکی پیداوار بھی حاصل ہوتی ہے، چنے کے آٹھ ماہ تک سٹاک ملک میں دستیاب ہے مجموعی طورپ ر ملک میں دو ماہ کیلئے دالوں کا سٹاک موجود ہے، کراچی میں لاک ڈاﺅن کی وجہ سے بندرگاہ پر بعض مشکلات پیش آئیں جس پر سندھ حکومت سے رابطہ کیا گیا ہے اسی طرح لاک ڈاﺅن کی وجہ سے فرٹیلائزر کے بعض پلانٹ بند ہوگئے ہیں، سندھ حکومت سے رابطہ کرکے اس کو کھولنے کیلئے بھی رابطہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وبا ءسے عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں کمی آرہی ہے اور اپریل کے مہینے میں دالیں اور دیگر اجناس کی قیمتوں میں کمی آئے گی اس لئے ذخیرہ اندوزی سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خوردنی تیل کا سٹاک 75 ہزار میٹرک ٹن ہے جو دو ماہ کیلئے ملکی ضروریات کیلئے کافی ہے۔ مخدوم خسرو بختیار نے کہا کہ ملکی پیداوار کے مطابق پیاز دستیاب ہے اس کی برآمد پر پابندی لگا دی گئی ہے ، اپریل میں 43 لاکھ ٹن آلو مارکیٹ میں آئے گا جبکہ ملکی ضرورت چالیس لاکھ ٹن ہے اگر ضرورت پڑی تو آلو کی برآمد پر پابندی لگا دی جائے گی۔ مخدوم خسرو بختیار نے کہا کہ لائیو سٹاک، پولٹری اور دودھ کی پیداوار میں پاکستان خودکفیل ہے، کورونا کی وباءکی وجہ سے پولٹری کی صنعت کو بعض مشکلات پیش آئیں گی جس میں پولٹری فیڈ کا معاملہ شامل ہے اس ایشو کو وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بحران کے اس دور میں سپلائی چین مینجمنٹ کو برقرار رکھنے اور رابطہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ ہم نے ایک کمیٹی بنائی ہے جو وفاقی سیکرٹری نیشل فوڈ سیکورٹی اور چاروں صوبائی سیکرٹریز خوراک پر مشتمل ہے یہ کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر رابطہ کرے گی وزیراعظم خود بھی اس کی مانیٹرنگ کریں گے۔