وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی کی سینٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ

اسلام آباد ۔ 27 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سرچارج کی مد میں جون2017 تک 258 ارب روپے اکٹھے ہوئے ،122 ارب روپے جی آئی ڈی سی ایکٹ سے پہلے اکٹھے ہوئے تھے ‘یہ ساری رقم سرکاری اکاﺅنٹ میںجمع ہو چکی ہے ‘پائپ لائن آر ایل این جی 1- پر حکومت نے ایک ارب کی …

اسلام آباد ۔ 27 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سرچارج کی مد میں جون2017 تک 258 ارب روپے اکٹھے ہوئے ،122 ارب روپے جی آئی ڈی سی ایکٹ سے پہلے اکٹھے ہوئے تھے ‘یہ ساری رقم سرکاری اکاﺅنٹ میںجمع ہو چکی ہے ‘پائپ لائن آر ایل این جی 1- پر حکومت نے ایک ارب کی گارنٹی دی تھی اور پائپ لائن آر ایل جی 3- کےلئے حکومت نے 175 ارب روپے فراہم کر دیئے ہیں ۔ وہ جمعرات کو سینٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دے رہے تھے ۔اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کی۔وفاقی وزیر پیٹرولیم وقدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے کہا کہپاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ انرجی کا تھا جس کا حل صرف ایل این جی تھا جو موجود ہ حکومت نے شروع کیا ۔ قائمہ کمیٹی نے جی آئی ڈی سی کے حوالے سے ایوان بالاءکی طرف سے تشکیل دی گئی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ پر عملدرآمد پر بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ یہ فنڈ پنجاب میں خرچ کیے جارہے ہیں، صوبہ خیبر پختونخواہ اور صوبہ سندھ کو ایل این جی کی ضرورت نہیں ۔ان صوبوں کے پاس کافی گیس موجود ہے ۔ ایل پی جی کےلئے دو ٹرمینل بنائے جائیںگے اورٹاپی کےلئے گارنٹی بھی حکومت دے رہی ہے ۔ 336 ارب روپے حکومت نے فراہم کر دیئے ہیں ۔ٹاپی پائپ لائن ترکمانستان سے افغانستان، پاکستان اور بھارت کےلئے ہے ۔ پائپ لائن پر ترکمانستان کمپنی کام کر رہی ہے ۔

Leave a Reply