پاکستانی فاسٹ بولر نسیم شاہ نے کہا ہے کہ وقت کے ساتھ انسان اور کرکٹر دونوں میں پختگی آتی ہے، وہ ابھی اپنے کیریئر کی بہترین کرکٹ کھیلنے کے منتظر ہیں اور ان کا مقصد اپنی کارکردگی سے خود کو منوانا ہے۔ پی سی بی ڈیجیٹل کو دیے گئے انٹرویو میں نسیم شاہ نے کہا کہ وقت کے ساتھ انسان اور کرکٹر دونوں میں پختگی آتی ہے اور تجربے سے …
وقت کے ساتھ انسان اور کرکٹر دونوں میں پختگی آتی ہے، کارکردگی سے خود کو منوانا ہے، فاسٹ بولر نسیم شاہ

مزید خبریں
لاہور۔15اکتوبر (اے پی پی):پاکستانی فاسٹ بولر نسیم شاہ نے کہا ہے کہ وقت کے ساتھ انسان اور کرکٹر دونوں میں پختگی آتی ہے، وہ ابھی اپنے کیریئر کی بہترین کرکٹ کھیلنے کے منتظر ہیں اور ان کا مقصد اپنی کارکردگی سے خود کو منوانا ہے۔ پی سی بی ڈیجیٹل کو دیے گئے انٹرویو میں نسیم شاہ نے کہا کہ وقت کے ساتھ انسان اور کرکٹر دونوں میں پختگی آتی ہے اور تجربے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے،نوجوانی میں تیز رفتار بولنگ پر زیادہ توجہ ہوتی ہے لیکن اب وہ سمجھتے ہیں کہ بولر کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے اور کس حکمت عملی کے تحت بولنگ کر رہا ہے۔
نسیم شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں کرکٹ کی پچز کی نوعیت اور زیادہ رنز بنانے پر توجہ کے باعث وائٹ بال کرکٹ میں بولرز کے لیے چیلنجز بڑھ گئے ہیں۔ ایسے حالات میں بولر کو زیادہ مہارت اور سمجھ داری سے کام لینا پڑتا ہے اور بیٹر کی ذہنی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی بنانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ فاسٹ بولنگ میں جارحیت کے ساتھ ذہانت اور سمجھ داری بھی ضروری ہے کیونکہ جدید دور کی وائٹ بال کرکٹ میں بیٹرز کی سوچ کو سمجھ کر بولنگ کرنا کامیابی کے لیے اہم ہے۔قومی فاسٹ بولر نے انجری کے باعث کرکٹ سے دور رہنے کے تجربات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انجری کے بعد دوبارہ واپسی کا سفر آسان نہیں ہوتا، بعض اوقات چوٹ ایسی ہوتی ہے کہ دوڑنا بھی ممکن نہیں رہتا، اس لیے بحالی کا پروگرام، اپنے جسم کو سمجھنا اور اچھی میڈیکل ٹیم کی معاونت انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
نسیم شاہ نے سات ماہ کے وقفے کے بعد پاکستان کی جانب سے انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کرتے ہوئے سری لنکا کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں تین وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے چار اوورز میں 36 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ اس میچ میں انہوں نے سری لنکن کپتان کوسل مینڈس، دنتھ ویلالاگے اور لاہیرو اودارا کو پویلین کی راہ دکھائی۔ دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں اگرچہ وہ کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے تاہم پاور پلے میں اپنے دو اوورز کے دوران صرف نو رنز دیے۔نسیم شاہ نے کہا کہ وہ اپنے کیریئر میں کئی مرتبہ انجری کے باعث مشکلات کا شکار ہوئے، جن میں 2023 کا آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ بھی شامل ہے، جس میں وہ شرکت نہیں کر سکے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں نسیم شاہ کو ایچ بی ایل پی ایس ایل 2026 کے دوران کمر کی انجری کے باعث بھی انہیں ٹورنامنٹ سے باہر ہونا پڑا۔قومی فاسٹ بولر اب انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف آئندہ ون ڈے سہ فریقی سیریز میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے تیار ہیں۔
پاکستان نے جنوبی افریقہ میں ہونے والے 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاریوں کا آغاز بھی کرنا ہے، جہاں قومی ٹیم اپنی مہم کا آغاز 8 اکتوبر 2027 کو افغانستان کے خلاف کرے گی۔نسیم شاہ اب تک 34 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں 60 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں جبکہ ان کی اوسط 25.91 اور اسٹرائیک ریٹ 28.3 ہے۔ انہوں نے اگست 2022 میں نیدرلینڈز کے خلاف اپنے تیسرے ون ڈے میچ میں 33 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں، جبکہ جنوری 2023 میں نیوزی لینڈ کے خلاف 57 رنز دے کر پانچ کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا تھا۔ اس طرح وہ مسلسل دو ون ڈے میچز میں پانچ، پانچ وکٹیں لینے والے پاکستان کے چھٹے بولر بن گئے تھے۔
اپنے مستقبل کے اہداف کے حوالے سے نسیم شاہ نے کہا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی بہترین کرکٹ ابھی آنا باقی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ سمیت اب تک کھیلے گئے میچز میں وہ سمجھتے ہیں کہ بعض پہلوئوں میں مزید بہتری کی گنجائش موجود تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سادہ سا مقصد یہ ہے کہ وہ اتنی اچھی کارکردگی دکھائیں کہ انہیں اپنے اہداف یا پرفارمنس کے بارے میں بلند آواز میں بات کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ جب انجریز کم ہوں اور بولنگ میں ردھم برقرار رہے تو بہت سی چیزیں خود بخود درست سمت میں چلنے لگتی ہیں۔







