اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر مہر کاشف یونس نے ٹیکس ادائیگیوں سے بچنے والوں کےخلاف کارروائی کرکے ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اتوار کو یہاں سٹریٹجک تھنک ٹینک گولڈ رنگ اکنامک فورم کے زیراہتمام ’ٹیکس ادائیگیوں سے بچنے والوں کےخلاف کارروائی کے ذریعے ٹیکسوں کی بنیاد کو وسیع کرنے کے معیشت پر اثرات‘ کے موضوع پر گول میز کانفرنس …
ٹیکس ادائیگیوں سے بچنے والوں کےخلاف کارروائی کرکے ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے، مہر کاشف یونس
اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر مہر کاشف یونس نے ٹیکس ادائیگیوں سے بچنے والوں کےخلاف کارروائی کرکے ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اتوار کو یہاں سٹریٹجک تھنک ٹینک گولڈ رنگ اکنامک فورم کے زیراہتمام ’ٹیکس ادائیگیوں سے بچنے والوں کےخلاف کارروائی کے ذریعے ٹیکسوں کی بنیاد کو وسیع کرنے کے معیشت پر اثرات‘ کے موضوع پر گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام اور ترقی کا انحصار مضبوط اور منصفانہ ٹیکس سسٹم پر ہے اور ٹیکس ادائیگیوں سے بچنے والوں کی نشاندہی کرنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیکس بنیاد کی موجودہ حالت تشویش کا باعث ہے کیونکہ ممکنہ محصولات کے ایک بڑے حصہ کی وصولی نہیں ہو پا رہی۔ اس سے نہ صرف ضروری سروسز کیلئے حکومتی فنڈنگ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے بلکہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے از خود ٹیکس ادائیگیاں کرنے والے ذمہ دار شہریوں پر بھی غیر منصفانہ بوجھ پڑتا ہے۔ ایف بی آر کی طرف سے ملک بھر میں 145 ضلعی ٹیکس دفاتر کے قیام کے فیصلے کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکس سے بچنے والوں کی شناخت کے لیے حکومتی اداروں، مالیاتی اداروں اور ٹیکس حکام کے درمیان کثیر جہتی تعاون کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیٹا اینالیٹکس کے لیے ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر اور ٹریکنگ کے جدید طریقہ کار کو استعمال میں لا کر اس صلاحیت کو نمایاں طور پر بڑھایا جا سکتا ہے۔ مہر کاشف یونس جو پاکستان میں کرغزستان ٹریڈ ہاوس کے چیئرمین بھی ہیں، نے مزید کہا کہ ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے قانونی فریم ورک اور جرمانوں کے نظام کو مربوط اور مضبوط کرنا بہت ضروری ہے۔ ایسا کرنے سے ٹیکس چوری کرنے والوں کو یہ پیغام جاتا ہے کہ انہیں برداشت نہیں کیا جائے گا اور ٹیکس کلچر کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرکے ہی ہم موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے مضبوط اور زیادہ خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔









