ٹیکس وصولی کے حوالہ سے وفاق کی کارگردگی صوبوں سے بہترہے،جون 2028ء تک یہ جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح 15 فیصد تک پہنچ جائیں گی، وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادکابیان

اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ ٹیکس وصولی کے حوالہ سے وفاق کی کارگردگی صوبوں سے بہترہے، وسائل کی تقسیم اور مالیاتی وفاقیت پر بحث تاثر یا دعوئوں کے بجائے ناپے گئے نتائج اور کارکردگی کی بنیاد پر ہونی چاہیے،وفاقی ٹیکس وصولیاں بتدریج بڑھ رہی ہیں اور اندازہ ہے کہ جون 2028ء تک یہ جی ڈی پی کے 15 فیصد تک پہنچ جائیں گی۔ جمعہ کوسماجی …

اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ ٹیکس وصولی کے حوالہ سے وفاق کی کارگردگی صوبوں سے بہترہے، وسائل کی تقسیم اور مالیاتی وفاقیت پر بحث تاثر یا دعوئوں کے بجائے ناپے گئے نتائج اور کارکردگی کی بنیاد پر ہونی چاہیے،وفاقی ٹیکس وصولیاں بتدریج بڑھ رہی ہیں اور اندازہ ہے کہ جون 2028ء تک یہ جی ڈی پی کے 15 فیصد تک پہنچ جائیں گی۔ جمعہ کوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاہے کہ ملک میں حالیہ دنوں یہ دعویٰ سامنے آ رہا ہے کہ ٹیکس وصولی کے حوالہ سے صوبائی حکومتوں کی کارکردگی وفاقی حکومت سے بہتر ہے اور اسی بنیاد پر یہ موقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ وسائل کی تقسیم پر مزید بحث کی ضرورت نہیں تاہم دستیاب سرکاری اعداد و شمار اور معاشی حقائق اس دعوے کی تردید کرتے ہیں اور ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مالی سال 2025ء کے دوران وفاقی حکومت نے 13 ٹریلین روپے سے زائد ٹیکس اور دیگر محصولات جمع کئے جو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 114.7 ٹریلین روپے کے مقابلے میں 11.3 فیصد بنتی ہے،بین الاقوامی معیار کے مطابق پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی مناسب شرح تقریباً 18 فیصد سمجھی جاتی ہے جس میں سے 15 فیصد جی ڈی پی کے برابر محصولات وفاقی سطح پر جبکہ باقی 3 فیصد صوبائی یا ریاستی حکومتوں سے حاصل کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حالیہ رجحانات کے مطابق وفاقی ٹیکس وصولیاں بتدریج بڑھ رہی ہیں اور اندازہ ہے کہ جون 2028ء تک یہ جی ڈی پی کے 15 فیصد تک پہنچ جائیں گی جو عالمی معیار کے قریب ہے،اس کے مقابلے میں پاکستان کے تمام صوبوں نے مالی سال 2025ء میں مجموعی طور پر صرف 979 ارب روپے ٹیکس جمع کیا جو مجموعی قومی پیداوار کا محض 0.85 فیصد بنتاہے جبکہ متوقع معیار کے مطابق صوبوں کو کم از کم 3 فیصد جی ڈی پی کے برابر ٹیکس وصول کرنا چاہیے ، اگر صوبائی حکومتیں جون 2028ء تک اس ہدف کو حاصل کرنا چاہتی ہیں تو انہیں اپنی موجودہ ٹیکس وصولیوں کو تین گنا سے بھی زیادہ بڑھانا ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ ماہرین کے مطابق بنیادی مسئلہ ٹیکس کی بنیادمیں کمی نہیں بلکہ اس بیس سے حاصل ہونے والی اصل آمدن یعنی ریونیو کا منافع ہے، مسئلہ یہ نہیں کہ صوبوں کے پاس ٹیکس لگانے کے ذرائع موجود نہیں بلکہ یہ ہے کہ موجودہ قابل ٹیکس شعبوں سے موثر انداز میں ٹیکس وصول نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومتوں کے پاس آئینی طور پر ٹیکس کے حوالہ سے اختیارات موجود ہیں تاہم اس کے باوجود ان کی ٹیکس وصولیاں ملکی معیشت کے حجم اور صلاحیت کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔خرم شہزادنے کہاکہ خدمات کے شعبے کا اندازاً قابل ٹیکس حجم 29 ٹریلین روپے ہے لیکن اس کے باوجود صوبائی حکومتیں خدمات پر سیلز ٹیکس کی مد میں صرف 650 ارب روپے وصول کر سکیں جو کہ محض 2.2 فیصد بنتا ہے۔

اس کے برعکس اشیاء کے شعبے کا اندازاً قابل ٹیکس حجم 30 ٹریلین روپے ہے اور وفاقی حکومت نے اسی شعبے سے 3.9 ٹریلین روپے ٹیکس حاصل کیا جو تقریباً 13 فیصد کے برابر ہے۔ دونوں شعبوں کے تقریباً مساوی معاشی حجم کے باوجود وصولی میں یہ فرق صوبائی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہاکہ زرعی آمدن پر ٹیکس آئینی طور پر صوبوں کا اختیار ہے، اس شعبے کا اندازاً قابل ٹیکس حجم 3.7 ٹریلین روپے لیکن صوبائی حکومتیں اس سے صرف 8.4 ارب روپے وصول کر سکیں، اس طرح زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کی شرح صرف 0.2 فیصد بنتی ہے جو نہایت کم ہے۔ جائیداد اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے کا اندازاً اثاثہ جاتی حجم 21.7 ٹریلین روپے ہے۔

اس کے باوجود صوبائی حکومتوں نے اسٹامپ ڈیوٹی اورشہری غیرمنقولہ پراپرٹی ٹیکس کی مد میں مجموعی طور پر صرف 66 ارب روپے وصول کیے جو کہ تقریباً 0.3 فیصد بنتا ہے۔انہوں نے کہاکہ علاقائی ممالک سے موازنہ کیا جائے تو ملائیشیا اور فلپائن میں جائیداد پر ٹیکس وصولی جی ڈی پی کے 0.5 فیصد کے برابر ہے، نیپال میں یہ شرح 0.4 فیصد، انڈونیشیا میں 0.3 فیصد، بھارت میں 0.2 فیصد جبکہ پاکستان میں یہ شرح صرف 0.08 فیصد ہے جو خطے میں سب سے کم ہے۔مشیرخزانہ نے کہاکہ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی حکومت کی ٹیکس وصولیاں پہلے ہی جی ڈی پی کے 11.3 فیصد تک پہنچ چکی ہیں اور عالمی معیار کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

اس کے برعکس صوبائی حکومتوں کی مجموعی ٹیکس وصولیاں جی ڈی پی کے صرف 0.85 فیصد پر موجود ہیں جو متوقع 3 فیصد سے کہیں کم ہیں۔انہوں نے کہاکہ خدمات، زراعت اور جائیداد جیسے بڑے معاشی شعبے صوبائی دائرہ اختیار میں ہونے کے باوجود ٹیکس وصولی کی صلاحیت کا بڑا حصہ ابھی تک استعمال میں نہیں آ سکا۔ یہ فرق صرف حجم کا نہیں بلکہ وصولی کی کارکردگی کا بھی ہے۔ مثال کے طور پر وفاقی سطح پر انکم ٹیکس کی وصولی قابل ٹیکس آمدن کے 17 فیصد سے زائد ہے جبکہ زرعی آمدن پر صوبائی ٹیکس کی وصولی صرف 0.2 فیصد ہے۔

خرم شہزادنے کہاکہ ماہرین کے مطابق شواہد واضح ہیں کہ صوبائی سطح پر ٹیکس وصولی کی صلاحیت بڑی حد تک غیر استعمال شدہ ہے،پاکستان میں مالیاتی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں متوازن اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت اپنی اپنی سطح پر موثر اقدامات کریں۔ انہوں نے کہاکہ وسائل کی تقسیم اور مالیاتی وفاقیت پر بحث تاثر یا دعوئوں کے بجائے ناپے گئے نتائج اور کارکردگی کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہیں اور صوبائی ٹیکس خلا کو پر کرنا، وفاقی اصلاحات کے ساتھ مل کر، بہتر عوامی خدمات، کم مالی دبائو اور ایک زیادہ منصفانہ وفاق کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔