قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چئیرمین سیدنویدقمر نے کہاہے کہ ٹیکس پالیسی کا بنیادی مقصد صرف محصولات اکٹھے کرنا نہیں بلکہ سرمایہ کاری، معاشی ترقی اور کاروباری مسابقت کو فروغ دینا بھی ہونا چاہیے
ٹیکس پالیسی کا بنیادی مقصد صرف محصولات اکٹھے کرنا نہیں بلکہ سرمایہ کاری، معاشی ترقی اور کاروباری مسابقت کو فروغ دینا بھی ہونا چاہیے،سیدنویدقمر

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چئیرمین سیدنویدقمر نے کہاہے کہ ٹیکس پالیسی کا بنیادی مقصد صرف محصولات اکٹھے کرنا نہیں بلکہ سرمایہ کاری، معاشی ترقی اور کاروباری مسابقت کو فروغ دینا بھی ہونا چاہیے، ضرورت سے زیادہ ٹیکس اور مخصوص شعبوں کے لیے غیر متوازن پالیسیاں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی اور طویل مدت میں معیشت کی ترقی کو متاثر کرتی ہیں ۔انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس جمعرات کویہاں منعقدہواجس میں فنانس بل 2026 کی شق وار جانچ کا سلسلہ جاری رہا، کمیٹی نے سیلز ٹیکس میں مجوزہ استثنیٰ، درآمدی ضوابط، انکم ٹیکس میں ترامیم، ڈیجیٹل ٹیکس انتظامیہ اور مختلف شعبوں کے لیے مجوزہ مراعات پر تفصیلی غور کیا،کمیٹی نے سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول میں توسیع کی تجویز کا جائزہ لیا، جس کے تحت سیلز ٹیکس مصنوعات کی پرنٹڈ خوردہ قیمت کی بنیاد پر مینوفیکچرنگ کے مرحلے پر وصول کیا جائے گا۔ ایف بی آر کی جانب سے کمیٹی کو بتایاگیا کہ اس تجویز کے تحت 21 نئی کیٹیگریز کو شیڈول میں شامل کیا جا رہا ہے، جن میں سینکڑوں روزمرہ استعمال کی اشیا ءمثلا ًپیک شدہ غذائی مصنوعات، مشروبات، کاسمیٹکس، کیڑے مار ادویات اور گھریلو سامان شامل ہیں، مقامی طور پر تیار کی جانے والی مصنوعات پر خوردہ قیمت فیکٹری ہی میں درج کی جائے گی کمیٹی کے ارکان نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس اقدام سے ابتدائی طور پر قیمتوں میں اضافہ، مارکیٹ میں بگاڑ اور عملی نفاذ کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، اراکین نے صارفین پر ممکنہ اثرات کے بارے میں مزید وضاحت طلب کی۔اجلاس میں اسٹیشنری کی اشیا ءپر ٹیکس سے متعلق بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ ارکان نے زور دیا کہ طلبہ کے زیر استعمال تعلیمی سامان، جیسے پنسلیں، جیومیٹری بکس اور دیگر ضروری اسٹیشنری کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا جائے تاکہ تعلیم کے فروغ میں رکاوٹ نہ آئے اور خاندانوں پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔ ایف بی آر نے وضاحت کی کہ کاپیاں بدستور سیلز ٹیکس سے مستثنی ٰرہیں گی، جبکہ دیگر اسٹیشنری پر رعایتی شرح سے 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ کمیٹی نے حتمی فیصلہ کرنے سے قبل ایف بی آر کو متوقع محصولات اور اس کے معاشی اثرات پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی،اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو نجکاری معاہدے کے تحت 15 سالہ سیلز ٹیکس استثنی ٰ دینے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ ارکان نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ صرف ایک ایئرلائن کو ایسی رعایت دینے سے فضائی شعبے میں مسابقت کا توازن متاثر ہوگا۔ سیکرٹری ایوی ایشن نے بتایا کہ یہ رعایت نجکاری کے لیے ممکنہ سرمایہ کاروں کے ساتھ طے پانے والے شیئر پرچیز ایگریمنٹ کا حصہ ہے ،چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دئیے کہ ٹیکس پالیسی شعبہ جاتی غیر جانبداری کے اصول پر مبنی ہونی چاہیے اور کسی ایک ادارے کو غیر ضروری مسابقتی برتری نہیں دینی چاہیے۔ کمیٹی نے حکومت کو سفارش کی کہ اس تجویز کے وسیع شعبہ جاتی اثرات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور اگر ضروری ہو تو اسی نوعیت کی سہولت کی پورے فضائی شعبے تک توسیع دی جائے تاکہ تمام اداروں کے لیے یکساں مواقع میسر ہوں۔کمیٹی نے ڈریجرز، ٹینکرز اور بحری جہازوں سے متعلق ٹیکس مراعات کا بھی جائزہ لیا۔ چیئرمین نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے پاس اپنے بحری شعبے کو مضبوط بنانے اور ملکی بندرگاہوں کو علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ کے متبادل مراکز کے طور پر ترقی دینے کا بہترین موقع موجود ہے۔ کمیٹی نے خواہش ظاہر کی کہ وزارتِ بحری امور ملک کی بحری ترقیاتی حکمت عملی اور اس شعبے میں دستیاب نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے درکار پالیسی اقدامات پر جامع بریفنگ دے،اجلاس میں ڈیجیٹل انضمام، فیس لیس اسیسمنٹ، الگورتھم پر مبنی ٹیکس تصفیہ اور آزاد کیس اسکروٹنی کمیٹی کے قیام سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ ارکان نے ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے مقصد کو سراہا، تاہم انتظامیہ کو دئیے جانے والے اختیارات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ شفاف قانونی تحفظات، واضح اہلیت کے معیار اور موثر نگرانی کا نظام وضع کیا جائے تاکہ احتساب یقینی بنایا جا سکے اور ٹیکس دہندگان کے حقوق محفوظ رہیں۔ کمیٹی نے لائف انشورنس پالیسی پہلے چار سال کے اندر سرنڈر کرنے سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ٹیکس عائدکرنے کی تجویزکاجائزہ لیا، کمیٹی کا موقف تھا کہ اس اقدام سے ٹیکس استثنی ٰکے ناجائز استعمال کی حوصلہ شکنی ہوگی، جبکہ حقیقی طویل المدتی پالیسی ہولڈرز کا تحفظ برقرار رہے گا۔ چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکس پالیسی کا بنیادی مقصد صرف محصولات اکٹھے کرنا نہیں بلکہ سرمایہ کاری، معاشی ترقی اور کاروباری مسابقت کو فروغ دینا بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت سے زیادہ ٹیکس اور مخصوص شعبوں کے لیے غیر متوازن پالیسیاں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں اور طویل مدت میں معیشت کی ترقی کو متاثر کرتی ہیں مالیاتی پالیسی میں توازن برقرار رکھنا ناگزیر ہے تاکہ محصولات میں اضافہ بھی ہو اور وسیع تر معاشی مقاصد بھی حاصل کیے جا سکیں۔ علاقائی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ حالیہ پیش رفت کے نتیجے میں پاکستان کے لیے بالخصوص بحری تجارت اور لاجسٹکس کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سرمایہ کار دوست پالیسیاں اور ہدفی مراعات متعارف کرائی جائیں تاکہ پاکستان کو خطے میں ایک موثر تجارتی مرکز کے طور پر ابھارا جا سکے۔چیئرمین نے ان تجاویز پر بھی تشویش ظاہر کی جن کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں کے تعین کا اختیار انتظامیہ کو منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئینی اصولوں کے مطابق ٹیکس کی شرحوں کا تعین پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور پارلیمانی نگرانی کو ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے ،انہوں نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ایف بی آر کی جانب سے مختلف ٹیکس تجاویز کے مالی اثرات اور متوقع محصولات سے متعلق جامع تجزیہ فراہم نہیں کیا گیا، حالانکہ کمیٹی بارہا ایسی معلومات طلب کر چکی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ موثر قانون سازی اور باخبر فیصلوں کے لیے ہر تجویز کے ساتھ اس کے مالی اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کرنا ناگزیر ہے، کمیٹی نے 17 جون 2026 کو منعقد ہونے والے اپنے گزشتہ اجلاس کی کارروائی کی بھی توثیق کر دی۔اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی رانا ارادت شریف خان، علی زاہد، سید سمیع الحسن گیلانی، بلال فاروق تارڑ، محمد عثمان اویسی، زیب جعفر، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، حنا ربانی کھر، ڈاکٹر شرمیلا فاروقی، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، محمد جاوید حنیف خان، ارشد عبداللہ ووہرا اور شاہدہ بیگم نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ وفاقی وزیر خزانہ، وزیر مملکت برائے خزانہ، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری ایوی ایشن، ڈائریکٹر جنرل ٹیکس پالیسی آفس اور وزارتِ خزانہ و فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے دیگر اعلی حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔








