اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے شدت پسندی اور تشدد کے اسباب سے نمٹنے کے پاکستان کے عزم کی تجدید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار امن تعلیم، مکالمے، معاشی مواقع، بہتر طرز حکمرانی اور تکثیریت و سماجی ہم آہنگی کے فروغ سے ہی ممکن ہے۔ تشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا …
پائیدار امن تعلیم، مکالمے، معاشی مواقع، بہتر طرز حکمرانی اور تکثیریت و سماجی ہم آہنگی کے فروغ سے ہی ممکن ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری کاتشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے شدت پسندی اور تشدد کے اسباب سے نمٹنے کے پاکستان کے عزم کی تجدید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار امن تعلیم، مکالمے، معاشی مواقع، بہتر طرز حکمرانی اور تکثیریت و سماجی ہم آہنگی کے فروغ سے ہی ممکن ہے۔ تشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان امن، برداشت اور باہمی احترام کے فروغ اور ان بنیادی اسباب سے نمٹنے کے اپنے عزم کی تجدید کرتا ہے جو شدت پسندی اور تشدد کو جنم دیتے ہیں، تشدد پر مبنی انتہاپسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے اور انصاف، ہمدردی اور انسانی حقوق جیسی عالمگیر اقدار کی صریح توہین کے مترادف ہے۔ایوان صدر کے میڈیا ونگ کی طرف سے بدھ کو جاری بیان کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسداد تشدد اور دیگر ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک یا سزا (سی اے ٹی)، بین الاقوامی میثاق برائے شہری و سیاسی حقوق (آئی سی سی پی آر) اور نسل پر مبنی ہر قسم کے امتیاز کے خاتمے کے بین الاقوامی کنونشن (آئی سی ای آر ڈی) کا فریق ہے اور ان کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر کاربند ہے۔
اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2250 (2015) کے مطابق پرتشدد انتہا پسندی کے حوالے سے قومی انسداد انتہاء پسندی پالیسی (2024) اس سمجھ کی عکاسی کرتی ہے اور پرتشدد انتہا پسندی کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے مشن کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ یہ پالیسی ردعمل سے فعال روک تھام کی طرف ایک سٹریٹجک تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے جو کثرت پسندی، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور سماجی انصاف کے اصولوں پر مبنی ہے، یہ پالیسی اجتماعیت کے نقطہ نظر کو اپناتی ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ انتہاپسندی کا مقابلہ کرنا اور برداشت کو فروغ دینا اسلامی تعلیمات اور عالمگیر اعلامیہ برائےحقوق انسان، دونوں میں مضبوط بنیادیں رکھتا ہے۔ اسلام انسانی وقار، مساوات اور تمام انسانوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی پر زور دیتا ہے۔ اسی طرح عالمگیر اعلامیہ برائےحقوق انسان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ تمام انسان بلا امتیاز پیدائشی طور پر وقار اور حقوق میں آزاد اور برابر ہیں۔
یہ اصول واضح کرتے ہیں کہ انتہاپسندی کی روک تھام ایک اخلاقی اور شہری فریضہ ہے جو معاشروں اور اقوام کے درمیان امن، انصاف اور ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور تشدد پر مبنی انتہاپسندی کے خلاف جدوجہد میں بھاری قربانیاں دی ہیں۔ ہماری عوام، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس خطرے کا سامنا کرتے ہوئے غیر معمولی حوصلے اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمارا پختہ یقین ہے کہ پائیدار امن تعلیم، مکالمے، معاشی مواقع، بہتر طرز حکمرانی اور تکثیریت و سماجی ہم آہنگی کے فروغ سے ہی ممکن ہے۔ ہم تشدد اور انتہاپسندی کی روک تھام کے لیے قانونی تحفظات، ادارہ جاتی اصلاحات اور صلاحیت سازی کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم تنازعات کے علاقوں اور جابرانہ نظاموں کے تحت انتہاپسندی کے مسلسل اور منظم استعمال پر بھی گہری تشویش رکھتے ہیں۔ بالخصوص عالمی برادری کی توجہ ان بے گناہ شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں، کی حالت زار کی جانب مبذول کراتے ہیں جو کشمیر اور فلسطین جیسے غیر قانونی طور پر مقبوضہ علاقوں میں انتہاپسندی، من مانی حراست اور ماورائے عدالت اقدامات کا سامنا کر رہے ہیں۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم اس امر پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ تشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے لیے اجتماعی عالمی اقدام ناگزیر ہے۔ عالمی برادری کو مشترکہ ذمہ داری، خودمختاری کے احترام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی بنیاد پر تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ انتہاپسندی کے انسداد کی کوششیں کسی مذہب، ثقافت یا برادری کو بدنام کرنے کے بجائے تفہیم، شمولیت اور تنوع کے احترام کو آگے بڑھائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس موقع پر پاکستان اس عالمی عزم کی تجدید کا مطالبہ کرتا ہے کہ دہشت گردی کو جنم دینے والی صورتحال سے نمٹا جائے، نوجوانوں کو بااختیار بنانے میں سرمایہ کاری کی جائے، نفرت انگیز تقاریر اور گمراہ کن معلومات کا موثر سدباب کیا جائے اور خاندانوں و برادریوں کو انتہاپسند بیانیوں کے خلاف پہلی دفاعی دیوار کے طور پر مضبوط بنایا جائے۔صدر مملکت نے کہا کہ آئیے مل کر ایسی دنیا کی تعمیر کے لیے کام کریں جہاںہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے تشدد پر امن، تقسیم پر مکالمہ اور نفرت پر امید کو غلبہ حاصل ہو۔








