وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پارلیمنٹیرینز پرولیجز بل پر تحفظات کا جائزہ لینے اور پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بلانے کا فیصلہ
پارلیمنٹیرینز پرولیجز بل پر عوام اور صحافی برادری کے تحفظات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا، وزیراعلی سہیل آفریدی

مزید خبریں
پشاور۔ 08 جولائی (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹیرینز پرولیجز بل میں صوبائی اسمبلی کی جانب سے کی گئی بعض ترامیم پر عوام اور صحافی برادری کے تحفظات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور اس سلسلے میں سپیکر کو تمام پارلیمانی لیڈرز کا اجلاس بلانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کابینہ سے منظور شدہ پارلیمنٹیرینز پرولیجز بل کا مسودہ صوبائی اسمبلی بھجوایا گیا تھا، جہاں اس میں بعض ترامیم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سے تین روز سے ان ترامیم پر میڈیا میں مسلسل تنقید کی جا رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ جن نکات پر عوام اور صحافی برادری کو اعتراضات ہیں، ان پر نظرثانی کی جائےوزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ آزادیٔ اظہارِ رائے کو فروغ دیا اور ان کی خواہش تھی کہ صحافی جہاں ضروری سمجھیں، حکومت پر کھل کر تنقید کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان پر اور ان کی حکومت پر بھی تنقید ہوتی رہتی ہے اور مختلف صحافی مسلسل حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی آراء دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بعض چینلز حکومت کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں، تاہم خیبرپختونخوا حکومت نے کبھی کسی کے خلاف غیرقانونی کارروائی نہیں کی۔ اگر کوئی جھوٹا پروپیگنڈا بھی کرے تو اس کے خلاف کارروائی صرف عدالتوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ دیگر صوبوں میں مخالف صحافیوں کو غائب کرنے، تشدد اور ہراسانی جیسے واقعات سامنے آتے ہیں، تاہم خیبرپختونخوا میں اس نوعیت کے ہتھکنڈے نہیں اپنائے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر کو ہدایت دی گئی ہے کہ تمام پارلیمانی لیڈرز سے مشاورت کرکے عوام اور صحافی برادری کے تحفظات کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا عوامی مینڈیٹ سے قائم واحد اسمبلی ہے، اس لیے ہر فیصلے میں عوامی رائے اور مفاد کو مقدم رکھا جائے گا۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے امید ظاہر کی کہ پارلیمنٹیرینز پرولیجز بل میں کی گئی متنازع ترامیم پر نظرثانی کی جائے گی اور آئندہ تمام اقدامات عوامی مفاد اور عوامی رائے کے مطابق کیے جائیں گے۔








