پاکستانی آلو کو اس وقت 36 ممالک کی منڈیوں تک برآمدی رسائی حاصل ہے جہاں برآمدی تقاضے معمول کے نباتاتی صحت کے سرٹیفکیٹ سے لے کر درآمدی اجازت ناموں اور مختلف ممالک کی مخصوص شرائط تک مختلف ہیں۔
پاکستانی آلو کو 36 عالمی منڈیوں تک برآمدی رسائی حاصل

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):پاکستانی آلو کو اس وقت 36 ممالک کی منڈیوں تک برآمدی رسائی حاصل ہے جہاں برآمدی تقاضے معمول کے نباتاتی صحت کے سرٹیفکیٹ سے لے کر درآمدی اجازت ناموں اور مختلف ممالک کی مخصوص شرائط تک مختلف ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے محکمہ تحفظ نباتات (ڈی پی پی) نے مارکیٹ ایکسس اینڈ سینیٹری اینڈ فائٹو سینیٹری (ایس پی ایس) کمپلائنس میٹرکس مرتب کیا ہے، جس میں ان 36 ممالک کا احاطہ کیا گیا ہے جہاں پاکستانی آلو کو اس وقت برآمدی رسائی حاصل ہے۔ان 36 منڈیوں میں سے 17 ممالک کو کسی اضافی ایس پی ایس شرط کے بغیر معمول کے نباتاتی صحت کے سرٹیفکیٹ کے ذریعے آلو برآمد کیے جا سکتے ہیں۔
مزید 10 ممالک کے لیے نباتاتی صحت کا سرٹیفکیٹ جاری ہونے سے قبل درآمد کنندہ ملک کے متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ مستند درآمدی اجازت نامہ لازمی ہے۔باقی نو ممالک نے مخصوص درآمدی شرائط عائد کر رکھی ہیں جن میں نباتاتی صحت کے سرٹیفکیٹ پر اضافی تصدیق، کیڑوں اور بیماریوں سے پاک پیداواری علاقوں کی تصدیق، پیکنگ کے سامان اور شپنگ کنٹینرز کو جراثیم اور کیڑوں سے پاک کرنا اور متعلقہ ملک کی مخصوص نباتاتی صحت کی شرائط پر عمل درآمد شامل ہے۔آلو کی برآمد کے عروج کے سیزن میں برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ڈی پی پی کا عملہ اوکاڑہ، دیپالپور، قصور اور پاکپتن سمیت آلو کی پیداوار، ذخیرہ اور پروسیسنگ کے بڑے مراکز میں 24 گھنٹے تعینات کیا گیا ہے۔
ڈی پی پی نے آلو برآمد کنندگان کی سہولت اور شکایات کے ازالے کے لیے ایک فوکل پرسن بھی مقرر کیا ہے۔دستاویزات کے مطابق ڈی پی پی نے درآمد کنندہ ممالک کے قومی تحفظ نباتات کے اداروں کے ساتھ رابطہ کاری بڑھانے، برآمد کنندگان کی رجسٹریشن میں سہولت، نباتاتی صحت کے سرٹیفکیٹس کے اجراکے عمل کو آسان بنانے، کیڑوں اور بیماریوں کی نگرانی، معائنہ اور قرنطینہ خدمات کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی نباتاتی صحت کے معیارات پر عمل درآمد کے ذریعے برآمدی سہولت کاری کو مزید بہتر بنایا ہے۔دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس نے آلو کے کیڑے پوٹیٹو ٹیوبر موتھ اور ٹماٹو ولٹ وائرس کی مبینہ موجودگی پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب سے آلو کی درآمد پر پابندی عائد کر دی تھی۔
ڈی پی پی نے اپنے روسی ہم منصب سے رابطہ کیا اور پاکستان کے نباتاتی صحت کے نظام اور متعلقہ کیڑوں اور بیماریوں سے پاک حیثیت کے حق میں سائنسی شواہد فراہم کیے۔دونوں ممالک کے قومی تحفظ نباتات کے اداروں کے درمیان مسلسل سفارتی اور تکنیکی کوششوں اور دوطرفہ مشاورت کے بعد روسی حکام نے پاکستان کے تکنیکی موقف اور فراہم کردہ شواہد کو تسلیم کیا۔ نتیجتاً پنجاب سے آلو کی درآمد پر عائد پابندی ختم کر دی گئی اور پاکستانی آلوئوں کو روسی منڈی تک دوبارہ رسائی حاصل ہو گئی۔دستاویزات کے مطابق چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (جی اے سی سی) نے ویلیو ایڈڈ آلو مصنوعات بالخصوص پوٹیٹو چپس اور آلو کے نشاستے میں زیادہ دلچسپی ظاہر کی ہے، کیونکہ ان مصنوعات کے لیے قرنطینہ کی شرائط نسبتاً آسان اور منڈی تک رسائی کے طریقہ کار زیادہ موثر ہیں۔کمبوڈیا پاکستانی آلوئوں کے لیے نئی منڈی تک رسائی کی ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔
پاکستان نے فروری 2026ء میں مارکیٹ رسائی کی درخواست بھیجی تھی جس کے بعد 28 فروری 2026ء کو رسائی کی منظوری دے دی گئی اور اس فیصلے سے تمام متعلقہ فریقوں کو آگاہ کر دیا گیا۔ویتنام کے لیے پیسٹ رسک اسیسمنٹ سے متعلق پاکستان کے جوابات فروری 2026ء میں جمع کرائے گئے۔ اپریل 2026ء میں موصول ہونے والے جواب کے مطابق ویتنام کا پلانٹ پروڈکشن اینڈ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ آلو کو ترجیحی بنیادوں پر زیر غور رکھے ہوئے تھا جبکہ ترشاوہ پھل اور آم بھی اس عمل میں شامل تھے۔
دستاویزات کے مطابق میکسیکو، جاپان، ارجنٹائن، تھائی لینڈ، فلپائن اور یورپی یونین کے ساتھ بھی پیسٹ رسک اسیسمنٹ یا منڈی تک رسائی کے حوالے سے رابطہ کاری جاری ہے۔ان اقدامات میں مختلف ممالک کی مخصوص ایس پی ایس شرائط پر عمل درآمد، چوبیس گھنٹے سرٹیفکیشن کی سہولت، درآمد کنندہ ممالک کے ساتھ تکنیکی رابطہ کاری اور آلو برآمد کنندگان کے لیے شکایات کے ازالے کا مخصوص نظام شامل ہے۔








