اسلام آباد ۔ 8 اپریل (اے پی پی) فرانسیسی کمپنیوں اور کاروباری اداروں نے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری اور موجودہ حکومت کے سرمایہ کاری دوست اقدامات کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستان کی معیشت کے مختلف شعبوں بالخصوص زراعت، مینوفیکچرنگ اور انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کر دی۔ پیر کو پاکستان کے چار روزہ دورے پر آئے ہوئے فرانسیسی کمپنیوں کے نمائندوں …
پاکستانی دورے پر آئے فرانسیسی کمپنیوں کے نمائندوں کی فرانسیسی سفیر مارچ باریٹی کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 اپریل (اے پی پی) فرانسیسی کمپنیوں اور کاروباری اداروں نے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری اور موجودہ حکومت کے سرمایہ کاری دوست اقدامات کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستان کی معیشت کے مختلف شعبوں بالخصوص زراعت، مینوفیکچرنگ اور انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کر دی۔ پیر کو پاکستان کے چار روزہ دورے پر آئے ہوئے فرانسیسی کمپنیوں کے نمائندوں نے فرانس کے سفیر مارچ باریٹی کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بدعنوانی کے خاتمے اور ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے کئے گئے اقدامات کو سراہا۔ 23 فرانسیسی کمپنیوں کے نمائندوں پر مشتمل موومنٹ آف انٹرپرائزز آف فرانس کے وفد نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وفد کے ارکان نے کہا کہ دورے کا مقصد پاکستان کے حالات اور سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مثبت تشخص کو بھی اجاگر کرنا ہے۔ اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں وفد کے ارکان نے کہا کہ فرانس کا چین پاکستان اقتصادی راہداری پر بڑا واضح موقف ہے اور وہ علاقائی رابطہ کاری کا حامی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی افرادی قوت کے معیار کو سراہا اور کہا کہ فرانسیسی بھی مختلف شعبوں میں پاکستان کی افرادی قوت اور انسانی وسائل کی تربیت و استعداد کار میں اضافے کیلئے تعاون کر رہے ہیں۔ فرانسیسی کمپنیوں نے فراہمی آب اور سیوریج جیسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تاہم اس حوالے سے درپیش بعض رکاوٹوں کو بھی اجاگر کیا۔ فرانسیسی وفد میں تعمیرات، زراعت، ایگری بزنس، بینکنگ، تیل و گیس، صنعت، شہری ترقی، واٹرٹریٹمنٹ ، توانائی اور آئی ٹی کے شعبوں کی کمپنیوں کے نمائندے شامل ہیں۔ وفد لاہور اور کراچی کا بھی دورہ کرے گا اور مقامی حکام و نجی شعبے کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرے گا۔








