پاکستانی محقق ڈاکٹر نعمان خان دنیا کے ٹاپ 5 فیصد سائنسدانوں میں شامل

ملائیشیا کی ایشیا پیسیفک یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن (اے پی یو) کے اسٹریٹجک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آر آئی) سے وابستہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نعمان خان کو ’’سائی رینک گلوبل‘‘ کی 2025 عالمی سائنسدان درجہ بندی (Global Scientist Index) میں دنیا کے ٹاپ 5 فیصد سائنسدانوں میں شامل کر لیا گیا ہے۔

ایبٹ آباد۔ 27 جولائی (اے پی پی):ملائیشیا کی ایشیا پیسیفک یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن (اے پی یو) کے اسٹریٹجک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آر آئی) سے وابستہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نعمان خان کو ’’سائی رینک گلوبل‘‘ کی 2025 عالمی سائنسدان درجہ بندی (Global Scientist Index) میں دنیا کے ٹاپ 5 فیصد سائنسدانوں میں شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ درجہ بندی محققین کے شائع شدہ تحقیقی مقالوں کی تعداد اور ان پر ہونے والے حوالہ جات کی بنیاد پر مرتب کی جاتی ہے جس میں دنیا بھر کے لاکھوں محققین کا تقابلی جائزہ لیا جاتا ہے۔

ایبٹ آباد کے علاقے سجی کوٹ قلندرآباد سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نعمان اعوان کے ساتھ ساتھ ایس آر آئی کے دو دیگر ساتھی محققین ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر احمد جمال عبداللہ الغبوری اور پروفیسر ڈاکٹر ہیرم ٹنگ کو بھی اسی فہرست میں جگہ ملی جس سے یونیورسٹی کو عالمی تحقیقی برادری میں مزید پذیرائی حاصل ہوئی۔ڈاکٹر نعمان خان کی تحقیق کا میدان جنریٹیو مصنوعی ذہانت ،بزنس اینالیٹکس اور پائیدار سپلائی چین جیسے موضوعات پر محیط ہے۔ان کے 100 سے زائد تحقیقی مقالے مختلف بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں جن پر اب تک 3000 سے زائد بار حوالہ دیا جا چکا ہے جبکہ ان کا ایچ-انڈیکس 26 ہے۔

اس کامیابی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر نعمان اعوان نے کہا کہ یہ اعزاز صرف میری نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کی محنت اور رہنمائی کا نتیجہ ہے جنہوں نے اس سفر میں میرا ساتھ دیا۔انہوں نے خاص طور پر ایس آر آئی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد فلاحت کا شکریہ ادا کیا جن کی مسلسل رہنمائی اور تعاون نے ان کے تحقیقی سفر کو ممکن بنایا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ برطانیہ کی ٹیز سائیڈ یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر محمد عمران قریشی کے بھی شکرگزار ہیں جنہوں نے برسوں تک ان کی تحقیقی رہنمائی اور نگرانی کی۔

ڈاکٹر نعمان خان تحقیق کے علاوہ عالمی سطح کے تحقیقی و صنعتی نیٹ ورک ’’کنیکٹنگ ایشیا‘‘ کے بانی بھی ہیں جس سے 40 سے زائد ممالک کے 13 ہزار سے زائد محققین وابستہ ہیں ،وہ اسکوپس-انڈیکسڈ جریدے ’’ای بی جے ایم‘‘کے منیجنگ ایڈیٹر بھی ہیں۔