پاکستان ،انگلینڈ کے درمیان ون ڈے سیریز کا چوتھا میچ آج (اتوار کو)قذافی سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا

پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیمیں سہ ملکی ون ڈے سیریز کے چوتھے میچ میں آج (اتوار کو)قذافی سٹیڈیم لاہور میں مدمقابل ہوں گی، میچ دوپہر ایک بجے شروع ہوگا۔ میچ کے لئے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے ہیں قومی ٹیم مسلسل تیسری کامیابی حاصل کرکے فائنل میں اپنی جگہ یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے جبکہ انگلینڈ کے لیے ایونٹ میں واپسی کی امیدیں برقرار رکھنا بڑا …

لاہور۔25اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیمیں سہ ملکی ون ڈے سیریز کے چوتھے میچ میں آج (اتوار کو)قذافی سٹیڈیم لاہور میں مدمقابل ہوں گی، میچ دوپہر ایک بجے شروع ہوگا۔ میچ کے لئے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے ہیں قومی ٹیم مسلسل تیسری کامیابی حاصل کرکے فائنل میں اپنی جگہ یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے جبکہ انگلینڈ کے لیے ایونٹ میں واپسی کی امیدیں برقرار رکھنا بڑا چیلنج ہوگا۔ سیریز میں پاکستان کی کارکردگی اب تک متاثرکن رہی ہے۔ گرین شرٹس نے پہلے میچ میں سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دی جبکہ دوسرے میچ میں انگلینڈ کو 87 رنز سے ہرا کر اپنی برتری ثابت کی۔

قومی ٹیم نے دونوں میچوں میں دبائو کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا اور اب اس کی نظریں لاہور میں بھی کامیابی کا تسلسل برقرار رکھنے پر مرکوز ہیں۔ دوسری جانب انگلینڈ کو ابتدائی دونوں میچوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان کے خلاف215 رنز پر ڈھیر ہونے کے بعد انگلش ٹیم سری لنکا کے خلاف بھی بڑا مجموعہ بنانے کے باوجود فتح حاصل نہ کرسکی۔ اس مقابلے میں انگلینڈ نے 429 رنز سکور کیے، تاہم سری لنکا نے ہدف حاصل کرکے اسے دو وکٹوں سے شکست دے دی۔ سری لنکا کے خلاف انگلش کپتان ہیری بروک نے 116 گیندوں پر 202 رنز کی شاندار اننگز کھیلی لیکن ان کی ڈبل سنچری بھی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی۔ انگلینڈ کے بولرز بڑے مجموعے کا دفاع کرنے میں ناکام رہے۔ پاکستان کے خلاف اہم میچ میں انگلینڈ کی جانب سے تجربہ کار لیگ سپنر عادل رشید کی واپسی کا امکان بھی زیر بحث ہے۔

انہیں سری لنکا کے خلاف میچ میں آرام دیا گیا تھا لیکن 430 رنز کے قریب مجموعے کا دفاع نہ کرپانے کے بعد انگلش ٹیم مینجمنٹ بولنگ کے شعبے میں تبدیلی پر غور کرسکتی ہے۔ ٹام بینٹن سے بھی ایک بار پھر اچھی بیٹنگ کی توقع کی جارہی ہے جو حالیہ میچوں میں نصف سنچریاں سکور کرچکے ہیں۔ پاکستانی ٹیم کے لیے صائم ایوب کی فارم بھی اہمیت رکھتی ہے۔ ابتدائی دونوں میچوں میں وہ بیٹنگ اور بولنگ میں نمایاں کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکے لہذا اس مقابلے میں ان کی کارکردگی پر خصوصی نظر ہوگی۔

بابر اعظم، فخر زمان اور سلمان آغا کی بیٹنگ جبکہ شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور حارث رئوف کی بولنگ قومی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔اس میچ کی ایک نمایاں خصوصیت کینسر سے آگاہی کی مہم بھی ہوگی۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اس مرض کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے پنک کٹ پہن کر میدان میں اتریں گے۔سیریز کے ابتدائی تینوں میچ راولپنڈی میں کھیلے گئے جبکہ باقی میچ اور فائنل لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں ہوں گے۔

لاہور کی پچ پر بیٹنگ کے لیے سازگار حالات متوقع ہیں، تاہم راولپنڈی کے مقابلے میں بڑی بائونڈریز بولرز کو کچھ اضافی مدد فراہم کرسکتی ہیں۔پاکستان کو فائنل میں رسائی کے لیے ایک اور کامیابی درکار ہے جبکہ انگلینڈ کے لیے یہ مقابلہ اپنی پوزیشن بہتر بنانے اور ایونٹ میں آگے بڑھنے کی امیدیں زندہ رکھنے کا اہم موقع ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔