برطانوی وزیرِاعظم اینڈی برنہم نے زور دیا ہے کہ برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان آزادانہ نقل و حرکت کی بحالی کے امکان پر کھلی اور شواہد پر مبنی بحث ہونی چاہیے۔ شنہوا کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ میرے خیال میں اس معاملے پر انتہائی حقائق پر مبنی اور شواہد سے تقویت یافتہ بحث ہونی چاہیے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ بریگزٹ سے قبل …
یورپی یونین کے ساتھ آزادانہ نقل و حرکت کی بحالی کے امکان پر کھلی اور شواہد پر مبنی بحث ہونی چاہیے،برطانیہ

مزید خبریں
لندن۔25اکتوبر (اے پی پی):برطانوی وزیرِاعظم اینڈی برنہم نے زور دیا ہے کہ برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان آزادانہ نقل و حرکت کی بحالی کے امکان پر کھلی اور شواہد پر مبنی بحث ہونی چاہیے۔ شنہوا کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ میرے خیال میں اس معاملے پر انتہائی حقائق پر مبنی اور شواہد سے تقویت یافتہ بحث ہونی چاہیے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ بریگزٹ سے قبل آزادانہ نقل و حرکت نے اہم چیلنجز پیدا کیے تھے، تاہم برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے بعد نقل مکانی کے رجحانات تبدیل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نقل مکانی کے توازن میں تبدیلی آئی ہے اس لیے ماضی اور موجودہ دور میں نقل مکانی کے رجحانات کے فرق پر ’’دیانت دارانہ بحث‘‘ ضروری ہے۔انہوں نے بریگزٹ کے بعد یورپی یونین کے ساتھ نقل مکانی سے متعلق معلومات کے تبادلے کے انتظامات تک برطانیہ کی رسائی ختم ہونے کی جانب بھی توجہ دلائی، ان میں یوروڈیک بھی شامل ہے جو پناہ کی درخواستوں کے انتظام میں مدد دینے والا یورپی یونین کا بائیومیٹرک ڈیٹا بیس ہے۔ تاہم،انہوں نے واضح کیا کہ وہ برطانیہ کی جانب سے یورو کرنسی اپنانے یا شینگن ایریا میں شامل ہونے کی سفارش نہیں کریں گے۔
شینگن ایریا میں رکن ممالک کے درمیان اندرونی سرحدوں پر جانچ پڑتال بڑی حد تک ختم کر دی گئی ہے۔ برطانوی وزیرِاعظم 20 نومبر کو برسلز میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں یورپی یونین کے رہنمائوں سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اجلاس میں یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کے مستقبل کے تعلقات کے لیے ممکنہ تجاویز پیش کریں گے۔
اینڈی برنہم کی قیادت میں کام کرنے والی لیبر پارٹی کے 2024 کے انتخابی منشور میں آزادانہ نقل و حرکت بحال کرنے، یورپی یونین کی سنگل مارکیٹ میں دوبارہ شامل ہونے یا کسٹمز یونین میں داخل ہونے کے امکان کو مسترد کیا گیا تھا۔ اینڈی برنہم ماضی میں ان وعدوں کی پاسداری کرنے کا عہد کر چکے ہیں۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے پہلے برطانیہ اور یورپی یونین کے تعلقات میں کسی بنیادی تبدیلی کا امکان کم ہے۔ ■







