اسلام آباد۔25اکتوبر (اے پی پی):پاکستان بعض ترقی یافتہ ممالک میں چند غیر ذمہ دار عناصر کی طرف سے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور قرآن پاک کی بے حرمتی جیسی توہین آمیز کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم آزادیاظہار رائے کی آڑ میں ایسی گھناونی …
پاکستان آزادی اظہار کی آڑ میں منظم اسلاموفوبیا مہم کی مذمت کرتا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔25اکتوبر (اے پی پی):پاکستان بعض ترقی یافتہ ممالک میں چند غیر ذمہ دار عناصر کی طرف سے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور قرآن پاک کی بے حرمتی جیسی توہین آمیز کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم آزادیاظہار رائے کی آڑ میں ایسی گھناونی کارروائیوں کو جوازدینے اور اسلام کو دہشت گردی سے منسوبکرنے کے بعض سیاستدانوں کے انتہائی پریشان کن بیانات نے مزید اضطراب پیدا کر دیا ہے جو اپنے الیکشن اور سیاسی فوائد کے لئے ایسا کر رہے ہیں۔ حقوق انسانی کے بین الاقوامی قانون کے تحت ، اظہار رائے کی آزادی کے حق کے استعمال کے ساتھ خصوصی فرائض اور ذمہ داریاں بھی تفویض کردہ ہیں۔ نسل پرستی کے نظریات کے پرچار، دیگر مذاہب اورمذہبی شخصیات کی توہین، نفرت انگیز اور تشدد پر اکسانے والی تقاریر کی بنیادی آزادی اظہار کے قانون میں اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ایسے غیر قانونی اور اسلاموفوبیا کی کارروائیاں اوربین المذاہب منافرت ، دشمنی اور محاذ آرائی کی خواہش رکھنے والی اس طرح کی غیر قانونی اور اسلامو فوبیا کی کارروائیاں کرائسٹ چرچ جیسی ہولناک دہشت گردی کی کارروائیوںکی اصل بنیاد ہیں، اس طرح تہذیبوں کے مابین امن اور ہم آہنگی کے مستقبل کے امکانات کو خطرات سے دوچار کرتے ہیں۔ جب کہ انسداد توہین رسالت اورفوجداری قوانین جن میں ہولوکاسٹ جیسے حساس معاملات کی نفی ہوتی ہے جن کی موجودگی میں بعض مغربی ممالک کے چند سیاست دانوں کی طرف سے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کو جواز بنانا ان کے دوہرے معیار کی صریحاً عکاسی ہے۔ اس طرح کے بیانات نے ان کی انسانی حقوق سے متعلق ساکھ کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ پاکستان نے مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر عدم برداشت، امتیازی سلوک اور تشدد سے نمٹنے کے لئے بین الاقوامی کوششوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ اپنی قومی حیثیت کے ساتھ ساتھ او آئی سی گروپ میں ہم تہذیبوں کے اتحاد اور تمام مذاہب ، عقائد اور ادیانکے باہمی افہام و تفہیم اور احترام کے فروغ کے بڑے حامی ہیں۔ ہم مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر ہر طرح کی شدت پسندی کی بلا شک و شبہ مذمت کرتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے 75 ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب میں اسلامو فوبیا کے حالیہ واقعات اور اس طرح کی غیر قانونی اشتعال انگیزیوں کو اجاگر کیا اور عالمی برادری پر زور دیا تھاکہ وہ عالمی سطح پر اشتعال انگیزی اور نفرت اور تشدد پر اکسانے کے واقعات کو کالعدم قرار دینے کے لئے تمام ضروری اقدامات کرے۔ وزیر اعظم نے اسلام فوبیا کے خلاف عالمی دن منانے کی بھی تجویز پیش کی۔ اس وقت جب نسل پرستی اور گستاخانہ اقدامات کے واقعات بڑھ رہے ہیں، عالمی برادری کو چاہیئے کہ مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر زینو فوبیا، عدم رواداری، گستاخی اور تشدد پر اکسانے کے واقعات خلاف مشترکہ اقدام اٹھانا چاہئے۔ پر امن بقائے باہمی کے ساتھ ساتھ سماجی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے بھی مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔








