پاکستان افغانستان کے ساتھ مزید کشیدگی نہیں چاہتا، مستقبل میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، ترجمان دفتر خارجہ طاہرحسین اندرابی کی پریس بریفنگ

اسلام آباد۔31اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ مزید کشیدگی نہیں چاہتا تاہم مستقبل میں ہونے والی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہرحسین اندرابی نے جمعہ کو یہاں پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کا آغاز 6 نومبر سے ہوگا، پاکستان ثالثی کے عمل میں …

اسلام آباد۔31اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ مزید کشیدگی نہیں چاہتا تاہم مستقبل میں ہونے والی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہرحسین اندرابی نے جمعہ کو یہاں پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کا آغاز 6 نومبر سے ہوگا، پاکستان ثالثی کے عمل میں مصروف رہے گا اور 6 نومبر کے مذاکرات کے مثبت نتائج کی امید کرتا ہے۔

ترجمان نے پاکستان اور افغان طالبان سے جنگ بندی کے حوالے سے قطر اور ترکیہ میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ پاکستان نے انتہائی مثبت انداز سے مذاکرات میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور گزشتہ شام استنبول میں اختتام پذیر ہوا، پاکستان نے ان مذاکرات میں واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کےلئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 25 اکتوبر کو شروع ہونے والے استنبول مذاکرات میں اچھے جذبے اور مثبت نیت کے ساتھ شرکت کی، استنبول مذاکرات شروع میں دو دن کے لئے تھے تاہم طالبان حکومت کے ساتھ ایک خوشگوار معاہدے تک پہنچنے کی کوشش میں پاکستان نے سنجیدگی سے چار دن تک مذاکرات جاری رکھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے واضح موقف پر سمجھوتہ کیے بغیر کہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کی جانی چاہیے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان دشمنی میں مزید اضافہ کا خواہاں نہیں لیکن افغان طالبان کی حکومت سے توقع ہے کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ اپنی وابستگی کا احترام کرے گی اور فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سمیت دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائیاں کرکے پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں سے پاکستان طالبان حکومت پر زور دے رہا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن اور موثر اقدامات کرے، ہم نے طالبان حکومت کے ساتھ افغان سرزمین پر فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان کی اعلیٰ قیادت کی موجودگی کے بارے میں بارہا مصدقہ معلومات شیئر کیں تاہم ماضی میں بارہا یقین دہانیوں کے باوجود افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں سے افغان طالبان کی حکومت کی طرف سے پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو مسلسل اور مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا اور 11 اور 12 اکتوبر اور بعد ازاں 14 اور 15 اکتوبر کو فتنہ الخوارج کی حمایت سے پاکستان کے خلاف بلا اشتعال جارحیت بین الاقوامی سرحد کے پار پرتشدد تبادلوں کا باعث بنی، پاکستان نے افغان اشتعال انگیزیوں کا فیصلہ کن جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اشتعال انگیزی جاری رہی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے ایک پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر مربوط اور خوشحال افغانستان کا خواہاں رہا ہے جو اپنے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پرامن ہو، اگست 2021ء میں کابل پر طالبان کے قبضے کے ساتھ ہم نے توقع کی کہ علاقائی امن اور رابطے کے وژن کی تکمیل ہوجائے گی۔ ترجمان نے کہا کہ اسی جذبے کے تحت ہمارے مختلف سکیورٹی خدشات کے باوجود پاکستان نے اس سال افغانستان کی حمایت اور مدد کے لیے بہت سے اقدامات کیے اور افغانستان کو خاص طور پر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کےلئے متعدد رعایتیں دیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان کے ساتھ اپنی سفارتی نمائندگی کو ناظم الامور سے سفیر کی سطح تک بڑھا دیا اور سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیر اعظم اوروزیر خارجہ نے 17 جولائی کو ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے منصوبے کے مشترکہ فزیبلٹی سٹڈی کے معاہدے پر دستخط کرنے سمیت تین بار کابل کا دورہ کیا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ اور اس کے عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہرممکن اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں، پاکستان ثالثی کے عمل میں مصروف رہے گا اور 6 نومبر کے مذاکرات کے مثبت نتائج کی امید رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان برادر ممالک قطر اور ترکیہ کے تعمیری کردار کو سراہتا ہے اور وہ اس مسئلہ کے پرامن حل کے لیے اپنی پوری کوششیں کررہے ہیں۔

مزید خبریں