پاکستان امریکہ برآمدات 10 ارب ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہیں، فہیم الرحمن سہگل

لاہور۔22دسمبر (اے پی پی):لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے کہا ہے کہ پاکستان کی سب سے زیادہ برآمدات امریکہ کو کی جاتی ہیں، گزشتہ سال امریکہ کو پاکستانی برآمدات کا حجم تقریبا6 ارب ڈالر رہا، امریکی ٹیرف اسٹرکچر سے موثر انداز میں فائدہ اٹھایا جائے تو یہ برآمدات10 ارب ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان امریکن شکاگو لینڈ چیمبر آف کامرس کے ایک اعلی …

لاہور۔22دسمبر (اے پی پی):لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے کہا ہے کہ پاکستان کی سب سے زیادہ برآمدات امریکہ کو کی جاتی ہیں، گزشتہ سال امریکہ کو پاکستانی برآمدات کا حجم تقریبا6 ارب ڈالر رہا، امریکی ٹیرف اسٹرکچر سے موثر انداز میں فائدہ اٹھایا جائے تو یہ برآمدات10 ارب ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان امریکن شکاگو لینڈ چیمبر آف کامرس کے ایک اعلی سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔پاکستان امریکن شکاگو لینڈ چیمبر آف کامرس کے ایک اعلی سطحی وفد نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا،جہاں وفد نے صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل سے ملاقات کی۔

وفد کی قیادت پاکستان امریکن شکاگو لینڈ چیمبر آف کامرس کے صدر نوید انور کر رہے تھے جبکہ لاہور چیمبر کے نائب صدر خرم لودھی بھی ملاقات میں موجود تھے۔اس موقع پر لاہور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران فردوس نثار،کرامت علی اعوان،شیخ فیاض جبکہ سابق ایگزیکٹو کمیٹی ممبران محمد نواز اور شیخ سجاد افضل بھی شریک تھے۔وفد کے دیگر شرکا میں ڈاکٹر سمیر شفیع اور رانا خرم علی شامل تھے۔ صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سب سے زیادہ برآمدات امریکہ کو کی جاتی ہیں اور گزشتہ سال امریکہ کو پاکستانی برآمدات کا حجم تقریبا6 ارب ڈالر رہا۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکی ٹیرف اسٹرکچر سے موثر انداز میں فائدہ اٹھایا جائے تو یہ برآمدات10 ارب ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اب تک زیادہ تر روایتی مصنوعات،خصوصا گارمنٹس کی برآمدات پر توجہ دی ہے، تاہم اب ضروری ہے کہ برآمدات بڑھانے کے لیے دیگر مصنوعات اور نئے شعبوں پر بھی کام کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پانچ روایتی سیکٹرز تک محدود رہنے کے بجائے آئی ٹی،منرلز،ایگریکلچر اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں کی طرف جانا ہو گا،جنہیں حکومت اور ایس آئی ایف سی نے بھی ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا ہے۔انہوں نے امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں موجود پاکستانی بزنس کمیونٹی کی صلاحیتوں اور نیٹ ورک سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ تمام جوائنٹ چیمبرز کے ساتھ لائزون کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سکلڈ ہیومن ریسورس کی برآمد بھی ایک بڑاباصلاحیت شعبہ ہے،جس سے نہ صرف برآمدات بلکہ ترسیلاتِ زر میں بھی اضافہ ممکن ہے۔صدر لاہور چیمبر نے بتایا کہ رواں سال ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور امید ہے کہ سال کے اختتام تک یہ42 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ترسیلاتِ زر میں مزید اضافے کے لیے سکلڈ لیبر کو دیگر ممالک میں بھیجنے کی جامع حکمتِ عملی اپنانا ہو گی۔اس موقع پر پاکستان امریکن شکاگو لینڈ چیمبر آف کامرس کے صدر نوید انور نے کہا کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی بزنس مین کا دل پاکستان کیلئے دھڑکتا ہے اور وہ ملکی معیشت کے استحکام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی سینیٹ کے نمائندگان سے ملاقاتوں میں پاکستان کی فارما انڈسٹری کی صلاحیت پر بات چیت ہوئی ہے اور پاکستان امریکہ کو فارما ایکسپورٹس بڑھا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوئی بھی فارما کمپنی اس وقت ایف ڈی اے کمپلائنٹ نہیں ہے،جس کی وجہ سے یہ شعبہ پیچھے رہ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی فارما انڈسٹری پر ٹیرف لگنے کے بعد پاکستان کے لیے اس شعبے میں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں،لیکن معیار اب بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔انہوں نے یقین دلایا کہ شکاگو چیمبر ہر ممکن طریقے سے پاکستانی بزنس مین کی معاونت کرے گا۔

ڈاکٹر سمیر شفیع نے اس موقع پر کہا کہ امریکہ میں ویزہ سختیوں کے بعد وہاں ہیومن ریسورس کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے،جس کے باعث امریکی کمپنیاں اپنے آپریشنز آئوٹ سورس کرنا چاہتی ہیں۔انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان میں ایسی کمپنیوں کیلئے خصوصی سہولت مراکز قائم کئے جائیں کیونکہ اس شعبے میں بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کیلئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ کاری کے بعد پاکستان سے سرمایہ واپس لے جانا آسان نہیں،جس کی وجہ سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ملک میں سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے۔ان کے مطابق ریگولیٹری مسائل اور کاروباری آسانیوں کی کمی بھی سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لاہور چیمبر،اوورسیز پاکستانی بزنس کمیونٹی اور متعلقہ ادارے مل کر ان تمام مسائل کا حل نکالیں گے اور پاکستان کی برآمدات، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔