پاکستان اور آزادکشمیر نے گزشتہ سات دہائیوں میں تعلیم کے میدان میں بہت ترقی کی ہے ،سردار مسعود خان

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور آزادکشمیر نے گزشتہ سات دہائیوں میں تعلیم کے میدان میں بہت ترقی کی ہے اور نا موافق حالات کے باوجود ہمارے تعلیمی اداروں سے فار غ التحصیل ہونے والے طلبہ ایٹمی سائنسدان، عالمی شہرت یافتہ ماہرین معاشیات اور اعلیٰ سفارتکار بنے اور یوں سائنس و ٹیکنا لوجی، معاشیات اور دوسرے شعبوں میں ملکی …

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور آزادکشمیر نے گزشتہ سات دہائیوں میں تعلیم کے میدان میں بہت ترقی کی ہے اور نا موافق حالات کے باوجود ہمارے تعلیمی اداروں سے فار غ التحصیل ہونے والے طلبہ ایٹمی سائنسدان، عالمی شہرت یافتہ ماہرین معاشیات اور اعلیٰ سفارتکار بنے اور یوں سائنس و ٹیکنا لوجی، معاشیات اور دوسرے شعبوں میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ ترین مقام حاصل کیا۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں آزادکشمیر کے سرکاری شعبہ کی جامعات کے وائس چانسلرز کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی، میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس پروفیسر ڈاکٹر مقصود احمد، یونیورسٹی آف پونچھ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد رسول جان، یونیورسٹی آف کوٹلی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر دلنواز احمد گردیز اور وویمن یونیورسٹی باغ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید نے شرکت کی جبکہ آزاد جموں وکشمیر پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین ائیر مارشل ریٹائرڈ مسعود اختر خان نے صد ر ریاست کی خصوصی دعوت پر کانفرنس کے آغاز میں نئے دور کے تقاضوں کے مطابق اعلیٰ کے اداروں کی فیکلٹی کی تربیت، طریقہ تدریس اور تعلیم کے نئے رجحانات پر ایک خصوصی پریزنٹیشن دی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ریاست اور سرکاری جامعات کے چانسلر سردار مسعود خان نے کہا کہ تعلیم میں ترقی کے کئی مدارج حاصل کرنے کے باوجود جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی جامعات اور اعلیٰ تعلیم کے دیگر اداروں میں تعلیمی معیار کو بلند کریں اور طلبہ کو اُن علوم اور مہارتوں سے روشناس کرائیں جن کا استعمال اور ضرورت نئے دور کے لئے ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم طلبہ کو نئے ماحول اور نئی ضرورتوں کے مطابق تعلیم دیں اور انہیں ایسی ٹیکنالوجیز سے متعارف کرائیں جو مستقبل میں ہمارے طرز زندگی کو یکسر تبدیل کر دیں گی۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے طلبہ کو روایتی تعلیم سے اپلائیڈ نالج کی طرف لے جائیں تاکہ تعلیم سے فراغت کے بعد یہ طلبہ ملک اور معاشرے کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بات اطمینان کا باعث ہے کہ ہماری جامعات طلبہ اور مارکیٹ کو باہم مربوط کرنے کے لئے جاب فیئرز اور دیگر پروگرامات تواتر کے ساتھ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو کتابی علم ازبر کرانے کے بجائے اُن کے اندر فہم، ادراک، سمجھ، تجسس اور جستجو کے جوہر کو پیدا کریں۔ صدر ریاست نے کہا کہ تعلیم و تربیت کے حوالے سے حضور نبی اکرم ﷺ کی زندگی ہمارے لئے سب سے بڑا ماڈل ہے جنہوں نے اپنے ساتھیوں میں سے حضرت عمر ؓ ایسے جوہر ناقابل بدل تیارکیے جن کی ذہانت اور دانشمندی کی آج بھی دنیا میں مثالیں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے وائس چانسلرز حضرات پر زور دیا کہ وہ محنت اور لگن سے طلبہ کے ذہنوں کو علم و دانش کے خزانوں میں بدل دیں اور یہی وہ ایک راستہ ہے جس پر چل کر ہم ترقی اور خوشحالی کی معراج حاصل کر سکتے ہیں۔ قبل ازیں وائس چانسلرز کی کانفرنس سے پہلے آزاد جموں وکشمیر پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین ائیر مارشل ریٹائرڈ مسعود اختر نے طلبہ کے اندر جستجواور تنقیدی سوچ پیدا کرنے کے لئے علم، ادراک، استعمال، تجزیہ اور ترکیب کے معیار کے مطابق تعلیم دینے کے تصور پر ایک نہایت معلوماتی پریزنٹیشن دی جسے شرکاء نے بہت سراہا۔