اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):پاکستان اور ترکیہ نے قدرتی آفات سے نمٹنے اور موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے کے لئے این ڈی ایم اے اور اے ایف اے ڈی کے درمیان ٹیکنالوجی پر مبنی تعاون کے عزم کا اعادہ کیاہے اورڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ،استعداد کار میں اضافہ اورفنی تبادلوں میں باہمی اور علاقائی تعاون کی اہمیت پر زور دیاہے۔جمعرات کو این ڈی ایم اے سے جاری بیان کے مطابق ترکیہ کے …
پاکستان اور ترکیہ کا قدرتی آفات سے نمٹنے اور موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے کے لئے این ڈی ایم اے اور اے ایف اے ڈی کے درمیان ٹیکنالوجی پر مبنی تعاون کے عزم کا اعادہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):پاکستان اور ترکیہ نے قدرتی آفات سے نمٹنے اور موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے کے لئے این ڈی ایم اے اور اے ایف اے ڈی کے درمیان ٹیکنالوجی پر مبنی تعاون کے عزم کا اعادہ کیاہے اورڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ،استعداد کار میں اضافہ اورفنی تبادلوں میں باہمی اور علاقائی تعاون کی اہمیت پر زور دیاہے۔جمعرات کو این ڈی ایم اے سے جاری بیان کے مطابق ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یرلیکایااور ترک ڈیزاسٹر اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی(اے ایف اے ڈی)کے صدر علی حمزہ پہلوان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی وفد کے ہمراہ تھے۔وفد کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں این ڈی ایم اے کی ٹیکنالوجی پر مبنی تبدیلی بشمول ارلی وارننگ سسٹمز، ریئل ٹائم ڈیٹا انٹیگریشن اور خطرے سے آگاہی پر تیاری کے طریقہ کارکے بارے میں بریفنگ دی گئی۔چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کے لئے قومی رابطہ کار ادارے کے طور پر اتھارٹی کے ابھرتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے این ڈی ایم اے کے رد عمل کے نظام سے ایک فعال، تیاری اور لچک پر مرکوزمتوقع ماڈل کی طرف تزویراتی تبدیلی پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں موسمیاتی آفات کے حوالے سے چوتھے سب سے زیادہ خطرے کا شکار ملک ہے۔
انہوں نے تعاون بڑھانے، علم کے تبادلے اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی جدید ٹیکنالوجیز کی ضرورت پر زور دیا۔بات چیت میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ردعمل اور لچک کی تعمیر میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان پائیدار شراکت داری کی توثیق کی گئی۔ این ڈی ایم اے نےاین ای اوسی کے قریب ایک سہولت پر پیشرفت کی تجویز پیش کی جو ایک عالمی مرکز سے منسلک ہو تاکہ آفات کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکے اور ٹیکنالوجی پر مبنی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
ترک وزیر داخلہ یرلیکایا نے این ڈی ایم اے کے فعال اقدامات، لچک پیدا کرنے کی کوششوں اور جدید تیاری کے نظام کی تعریف کی۔ ترک وفد نے پاکستان میں مشترکہ پاک ترک سہولت کے قیام میں دلچسپی کا اظہار کیا اور قدرتی آفات سے نمٹنے اور موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے کے لئے این ڈی ایم اے اور اے ایف اے ڈی کے درمیان ٹیکنالوجی پر مبنی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ،استعدادکار میں اضافہ اورفنی تبادلوں میں باہمی اور علاقائی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔








