پاکستان اور چین کے مابین دہائیوں پر محیط آزمودہ اور ہمہ جہت دوستی کو علمی و فکری انداز میں اجاگر کرنے اور مستقبل کے مشترکہ وژن کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے جامعہ پنجاب میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

لاہور۔10فروری (اے پی پی):پاکستان اور چین کے مابین دہائیوں پر محیط، آزمودہ اور ہمہ جہت دوستی کو علمی و فکری انداز میں اجاگر کرنے اور مستقبل کے مشترکہ وژن کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے جامعہ پنجاب لاہور میں ایک اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان-چین تعلقات کے سیاسی، معاشی، ثقافتی، تعلیمی اور تزویراتی پہلوئوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ …

لاہور۔10فروری (اے پی پی):پاکستان اور چین کے مابین دہائیوں پر محیط، آزمودہ اور ہمہ جہت دوستی کو علمی و فکری انداز میں اجاگر کرنے اور مستقبل کے مشترکہ وژن کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے جامعہ پنجاب لاہور میں ایک اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان-چین تعلقات کے سیاسی، معاشی، ثقافتی، تعلیمی اور تزویراتی پہلوئوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اس کانفرنس میں دونوں ممالک کے ماہرین تعلیم، محققین، پالیسی سازوں، سفارتی شخصیات اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ تعلیمی و تحقیقی حلقے پاک چین دوستی کو مزید وسعت دینے کے لیے متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

’’برجنگ ہورائزنز: پاکستان-چین گہری دوستی کا جشن‘‘ کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز، جامعہ پنجاب نے انسٹیٹیوٹ فار اے کمیونٹی ود شیئرڈ فیوچر (آئی سی ایس ایف)، کمیونیکیشن یونیورسٹی آف چائنا (بیجنگ) اور پاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے سفارت خانے کے اشتراک سے کیا۔

کانفرنس کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی اور وقت کی کسوٹی پر پوری اترنے والی دوستی کا جشن منانا، علمی مکالمے کو فروغ دینا، عوامی روابط مضبوط کرنا اور سیاسی، معاشی، ثقافتی و تزویراتی شعبوں میں دوطرفہ تعلقات پر تحقیقی تبادلے کو وسعت دینا تھا۔

کانفرنس چار سیشنز پر مشتمل تھی جن میں پاکستان-چین تعاون کے مختلف پہلوئوں کو اجاگر کیا گیا جبکہ طلبہ کی نمایاں علمی و تخلیقی کاوشوں کو بھی سراہا گیا۔افتتاحی کلمات فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین نے ادا کیے۔ انہوں نے پاکستان-چین تعلقات کو مضبوط بنانے میں جامعات، تحقیق اور ثقافتی تبادلوں کے کردار پر زور دیا۔

استقبالیہ خطاب پاکستان ریسرچ سینٹر فار اے کمیونٹی ود شیئرڈ فیوچر (پی آر سی سی ایس ایف)، اسلام آباد کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خالد تیمور اکرم نے کیا جنہوں نے نوجوانوں کے کردار، تحقیق پر مبنی اقدامات اور عوامی سطح پر روابط کو مشترکہ مستقبل کے وژن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ کمیونیکیشن یونیورسٹی آف چائنا، بیجنگ کے انسٹیٹیوٹ فار اے کمیونٹی ود شیئرڈ فیوچر کے ڈین پروفیسر لی ہوا لیانگ نے آن لائن خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلیمی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور فکری و علمی اشتراک کو تزویراتی شراکت داری کے استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔

کانفرنس سے خطاب کرنے والے ممتاز مقررین میں حارث نعیم، ذیشان قریشی، وائس چانسلر جامعہ پنجاب پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، ڈاکٹر محمد عثمان عسکری، ڈاکٹر کشور منیر، ڈاکٹر طاہر ممتاز اعوان، ڈاکٹر فوزیہ ہادی علی، بریگیڈیئر (ر) منصور سعید اور نور اللہ شامل تھے جنہوں نے ارضیاتی تعاون، ڈیجیٹل سلک روڈ، جیوپولیٹکس، علاقائی سلامتی، تہذیبی روابط، علاقائی رابطہ کاری، معاشی تعلقات اور میڈیا کے کردار سمیت مختلف موضوعات پر اظہار خیال کیا۔

کانفرنس کی ایک نمایاں سرگرمی ’’پاکستان-چین دوستی‘‘ کے عنوان سے پوسٹر مقابلے کا افتتاح تھا جس میں طلبہ نے تاریخی، ثقافتی اور تزویراتی تعلقات کو تخلیقی انداز میں پیش کیا۔ پہلے اور دوسرے سیشن کے اختتام پر سوال و جواب کا سلسلہ ہوا جبکہ مقررین میں یادگاری شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ تیسرے اور چوتھے سیشن بیک وقت منعقد ہوئے جن میں ابھرتے ہوئے چیلنجز، پالیسی تناظر اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی مباحثہ ہوا۔

ان سیشنز میں منتخب طلبہ نے تحقیقی مقالے پیش کیے۔ سیشنز کے اختتام پر تقریری مقابلے کے کامیاب طلبہ کا اعلان کیا گیا اور شرکاء میں اسناد و سووینئرز تقسیم کیے گئے۔ کانفرنس میں تقریباً 500 شرکا نے شرکت کی جو اس امر کا ثبوت ہے کہ تعلیمی حلقوں میں پاکستان-چین دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھرپور دلچسپی اور عزم موجود ہے۔