پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کا فیلڈ مارشل عاصم منیر اور مسلح افواج پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہم کی شدید مذمت

راولپنڈی۔7دسمبر (اے پی پی):پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی (پیس) نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف بڑھتی ہوئی منظم پروپیگنڈا مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی سلامتی اور قومی یکجہتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ بیان پیس کے صدر اور سابق سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم نے راولپنڈی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے …

راولپنڈی۔7دسمبر (اے پی پی):پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی (پیس) نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف بڑھتی ہوئی منظم پروپیگنڈا مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی سلامتی اور قومی یکجہتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ بیان پیس کے صدر اور سابق سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم نے راولپنڈی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ پریس کانفرنس میں وائس ایڈمرل عبدالعلیم، کموڈور ارشد محمود خان، بریگیڈیئر طارق محمود، بریگیڈیئر آصف ہارون، چیف آرگنائزر پیس عزیز احمد اعوان اور آفس سیکرٹری خالد محمود قاضی بھی موجود تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ہائبرڈ وار کا شکار ہے جس میں دشمن عناصر افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گرد حملے کروا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیر اعلانیہ جنگ بھارت کی اُس حکمت عملی کا تسلسل ہے، جس کا اظہار 1965 کی جنگ کے بعد “آپریشن سندور” کی صورت میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ایجنسیاں گمنام دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں اور انہیں افغان طالبان کی جانب سے بھی معاونت حاصل ہے۔ پیس کے رہنماؤں نے پاک فوج کے افسران اور جوانوں کی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور لازوال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے ہر حملے کا مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم نے پروپیگنڈا وار کو دشمن کا بڑا ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور مسلح افواج کو نشانہ بنانے کی منظم کوشش جاری ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کے اندر بعض سیاسی عناصر بھی اس بیانیے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے ترجمان پاک فوج کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنما اور ان کے اندر و باہر موجود عناصر بھارتی پروپیگنڈا کو تقویت دے کر قومی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پیس نے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ صدر پیس نے کہا کہ موجودہ قومی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح کے اصول اتحاد، تنظیم اور یقین محکم پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے سیاسی قیادت، میڈیا، ریاستی اداروں اور عوام سے اپیل کی کہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔ علاقائی معاشی روابط کے حوالے سے لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے کرغستان کے صدر ساڈیر ژاپروف کو پاکستانی بندرگاہیں استعمال کرنے کی پیشکش کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں کو بڑے تجارتی راستے فراہم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے تاہم اس کے لیے افغان طالبان کو دہشت گرد گروہوں کو غیر مسلح اور غیر فعال بنانے میں تعاون بڑھانا ہو گا۔

انہوں نے روس اور بھارت کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون، خصوصاً جدید SU-57 طیاروں اور اضافی S-400 نظام کی بھارتی فضائیہ کو ممکنہ فراہمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا، اسے خطے میں اسلحے کی دوڑ اور بھارت کے بالادستی عزائم کے لیے خطرناک قرار دیا۔ پیس نے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے مجوزہ جائزے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی ضروریات، قرضوں کی ادائیگی، ترقیاتی حکمت عملی اور موسمیاتی چیلنجز جیسے قومی بوجھ میں تمام صوبوں کو منصفانہ طور پر شریک ہونا چاہیے۔ پریس کانفرنس کے آخر میں پیس کی قیادت نے ملکی ترقی، سلامتی اور قومی یکجہتی کے لیے مشترکہ قومی بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

مزید خبریں