اسلام آباد ۔ 26 جون (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو شکست دینے کے لیے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی، ریحام خان کی کتاب اور افتخار چوہدری کی باتوں میں کوئی حقیقت نہیں اور ایسا بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کے ساتھ بھی کیا جاتا رہا ہے، ہمیشہ میری ذاتی زندگی اور شوکت …
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 جون (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو شکست دینے کے لیے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی، ریحام خان کی کتاب اور افتخار چوہدری کی باتوں میں کوئی حقیقت نہیں اور ایسا بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کے ساتھ بھی کیا جاتا رہا ہے، ہمیشہ میری ذاتی زندگی اور شوکت خانم ہسپتال پر حملے کیے جاتے رہے ہیں، عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور یہ تبدیلی ہم لا کر دکھائیں گے، ملکی حالات منتخب نمائندوں یعنی پولیٹیکل کلاس کی وجہ سے نہیں بگڑتے بلکہ لیڈرز کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں ۔ ملائشیا کو مہاتیر محمد جیسا لیڈر ملا اور اس نے اقتدار میں آنے کے بعد ملائشیا کی حالت بدل کر رکھ دی حالانکہ پولیٹیکل کلاس تو وہاں بھی وہی پرانی تھی لیکن فرق صرف یہ تھا کہ مہاتیر محمد ایک لیڈر تھا جس نے ملائشیا کو بدل کے رکھ دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک کی مثال لے لیں جو ملک بھی آگے گیا ہے اس کے اوپر ایک بہترین لیڈر موجود ہوتا ہے اور اس سلسلے میں سب سے بڑی مثال میں ہمیشہ اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کی دیتا ہوں ۔ مکہ کے لوگوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی، حضرت محمد ﷺ جو ایک بہترین اور سب سے بڑے لیڈر ہیں انہیں کہاں سے اٹھا کے کہاں لے گئے، وہی مکہ کے قریش اور کافر جو آپ ﷺ پر ظلم کرتے تھے فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ نے انہی کو ساتھ ملا لیا اور ان میں سے بڑے بڑے لیڈر بھی بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بہتر قیادت ہی ملک کو تبدیل کرتی ہے کیونکہ جب قیادت ہی کرپٹ ہو تو نیچے لوگ ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ایک حقیقی قائد ہی قوم کی اخلاقیات اٹھا دیتا ہے، اداروں کو مضبوط بنا دیتا ہے اور ایک ایسا کلچر لے آتا ہے جس میں وہ کرپشن کو برداشت ہی نہیں کرتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 1985ءمیں پاکستان کی سیاست کے ساتھ ایک بہت بڑا ظلم ہوا تھا اور ایک ملٹری ڈکٹیٹر نے ملک سے نظریاتی سیاست کا خاتمہ کر دیا اور نان پارٹی بیس انتخابات کرا دئیے جس سے سارے منتخب ہو کر آ گئے جن کا نہ تو کوئی نظریہ تھا اور نہ ہی کوئی منشور جس کی وجہ سے خریدو فروخت شروع ہو گئی اور ترقیاتی فنڈز کے نام پہ جماعتیں بنائی گئیں اور لوگوں کو اکٹھا کیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ اس دن سے آج تک پاکستان کی سیاست میں نظریہ نیچے چلا گیا اور مفادات اوپر چلے گئے۔








