پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر لازوال انداز میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا

اسلام آباد۔ 5 فروری (اے پی پی) پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر بدھ کو لازوال انداز میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، پورے پاکستان کو آزاد کشمیر کے پرچموں سے سجا دیا گیا، شہر شہر، گلی گلی کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے بلند ہوتے رہے، وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کیلئے آزاد کشمیر کے دارالحکومت …

اسلام آباد۔ 5 فروری (اے پی پی) پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر بدھ کو لازوال انداز میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، پورے پاکستان کو آزاد کشمیر کے پرچموں سے سجا دیا گیا، شہر شہر، گلی گلی کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے بلند ہوتے رہے، وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کیلئے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کا دورہ کیا اور قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کیا جس میں انہوں نے کشمیر کا مسئلہ ہر فورم پر اٹھانے اور مودی کے 5 اگست کے اقدام کو کشمیریوں کی آزادی کی ضمانت قرار دیا۔ اس موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل کی گئی۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کو ملانے والے اہم پلوں کوہلہ، آزاد پتن اور دیگر پلوں پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی جس میں وفاقی اور صوبائی وزراءنے یکجہتی کیلئے شرکت کی۔ بدھ کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور کئی ماہ سے لاک ڈاﺅن کی وجہ سے یوم یکجہتی کشمیر معمول سے ہٹ کر بھرپور انداز میں منایا گیا۔ اس دن کی مناسبت سے یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجراءکیا گیا۔ دن 10 بجے ایک منٹ کے لئے خاموشی اختیار کی گئی۔ اسلام آباد میں خواتین کے زیراہتمام فارن آفس کے سامنے ریلی کا اہتمام کیا گیا جس سے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے خطاب کیا۔ صدر، وزیراعظم سمیت تمام قومی رہنماﺅں نے اس دن کی مناسب سے خصوصی پیغامات میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، بھارتی اقدامات کو خطے کے امن اور سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم عمران خان کے احکامات کی روشنی میں رواں سال یوم یکجہتی کشمیر کی تقریبات کا آغاز 27 جنوری سے کر دیا گیا تھا۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں ریلیوں سے وزراءاعلیٰ نے خطاب کیا جبکہ ہر ضلع کی سطح پر ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوںاور ریلوے سٹیشنوں پر یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے بینرز آویزاں کئے گئے تھے۔ پی ٹی اے کی جانب سے یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے 10کروڑخصوصی ایس ایم ایس بھیجے گئے۔ وفاقی تعلیمی اداروں میں مباحثے اور مضمون نویسی کے مقابلے منعقد ہوئے۔ پاکستان سپورٹس بورڈکے زیر اہتمام خواتین کے مابین ہاکی اور مردوں کے فٹ بال میچ کا انعقاد کیا گیا۔ اس کے علاوہ مختلف شہروں میں سٹی برانڈنگ کی گئی۔ اسلام آباد میں سینٹورس مال اور صفا گولڈ مال میں کشمیر سیل کے زیر اہتمام خصوصی ڈیسک قائم کئے گئے جبکہ یہاںپر دستخطی مہم کا انتظام بھی کیا گیا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان سمیت دیگر اہم رہنماﺅں نے ان بینرز پر دستخط کئے۔ ایوان اقبال لاہور میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے تصاویری نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ تمام آرٹ گیلریوں میں بھی تصاویری نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ تمام فارن مشنز میں یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں خصوصی پروگرامات منعقد کئے گئے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر خصوصی مہم چلائی گئی۔ دن کے آغاز پر مساجد میں کشمیر کی آزادی کے لئے خصوصی دعائیں کی گئی۔ پی ٹی وی میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالہ سے گریٹ ڈیبیٹ کا اہتمام کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں اہم قومی رہنماﺅں نے حصہ لیا۔ ڈی چوک اسلام آباد میں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی۔ قومی کشمیر کمیٹی کے زیر اہتمام قومی اسمبلی کے تمام حلقوں میں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی جس میں متعلقہ اراکین قومی اسمبلی شریک ہوئے۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر تمام چھوٹے بڑے شہروں میں آزاد کشمیر کے پرچم لہرائے گئے۔ ریلیوں کا اہتمام کیا گیا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی تارکین وطن نے بھی یوم یکجہتی کے موقع پر بھرپور تقاریب کا انعقاد کیا۔ برطانوی پارلیمنٹ میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالہ سے کانفرنس منعقد کی گئی جس سے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، لارڈ قربان حسین سمیت بڑی تعداد میں ممبران پارلیمنٹ نے خطاب کیا۔

مزید خبریں