پاکستان سیاحت کی صلاحیت اور بھرپور تاریخی ثقافتی ورثے سے مالامال ہے، افتخار علی ملک

سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان سیاحت کی صلاحیت اور بھرپور تاریخی ثقافتی ورثے سے مالامال ہے اور غیر ملکی و مقامی سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے مذہبی مقامات کو صحیح طریقے سے پیش کر کے سالانہ اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کر سکتا ہے

لاہور۔19جولائی (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان سیاحت کی صلاحیت اور بھرپور تاریخی ثقافتی ورثے سے مالامال ہے اور غیر ملکی و مقامی سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے مذہبی مقامات کو صحیح طریقے سے پیش کر کے سالانہ اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات ڈسکور پاکستان کے چیئر مین ڈاکٹر قیصر رفیق سے ملاقات کے دوران کہی ۔افتخار علی ملک نے کہا کہ سیاحت کے بہترین مقامات کو عالمی سطح پر متعارف کروا کر اسے پاکستان میں اربوں ڈالر کی صنعت بنایا جا سکتا ہے ،ان میں ہنزہ ، سکردو ، سوات ، ناران، کاغان ، گلگت بلتستان ، ہڑپہ ، ٹیکسلا ، پنجہ صاحب ، بابا گرو نانک اور دربار کرتار پور ودیگر خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دنیا کے سستے ترین اور بہترین سیاحتی مقامات واقع ہیں اور2020 میں پاکستان کو چھٹیاں گزارنے کےلئے بہترین منزل اور مہم جوئی کےلئے دنیا کا تیسرا بہترین مقام بھی قرار دیا گیا تھا ،دنیا کے175 ممالک کو آن لائن ویزہ جبکہ50 ممالک کو آمد پر ویزہ کی سہولت بھی فراہم کر دی گئی ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں سیاحت میں300 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ، ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹور آپریٹرز ، ہوٹلز کے عملے اور دیگر تمام سٹیک ہولڈرز کو ٹریننگ فراہم کی جائے تاکہ سیاحوں کو بین لااقوامی معیار کی خدمات مہیا کی جا سکیں جن میں صاف ستھرے کمرے، حفظان صحت کے مطابق کھانے، صحت مند ماحول اور 24گھنٹے فول پروف سکیورٹی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سیاحت کو کسی بھی قوم کی معاشی و اقتصادی ترقی کا ایک اہم پہلو سمجھا جاتا ہے، قدرت نے پاکستان کو قابل رشک قدرتی خوبصورتی سے نوازا ہے جو دنیا کے بہترین قدرتی مقامات کے ساتھ سیاحوں کو راغب کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔ چیرمین ڈسکور پاکستان ڈاکٹر قیصر رفیق نے کہا کہ اگر چین اور بھارت سیاحت سے سالانہ30 ارب ڈالر اور کئی یورپین ممالک سینکڑوں ارب ڈالر حاصل کر سکتے ہیں تو پاکستان میں یہ کیوں ممکن نہیں، ضرورت اس امر کی ہے ہمیں وہ اقدامات اٹھانا ہوں گے جن سے دنیا بھر نے استفادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکور پاکستان نے مختلف زبانوں میں دنیا بھر خاص طور پر چین میں پاکستان کے عظیم ثقافتی اور سیاحتی ورثے کو متعارف کرانے کےلئے آغاز کر دیا ہے اور اسے پاکستانی سفارتخانوں کے ذریعے سیاحوں کو پاکستان لانے کےلئے استعمال کرنے کی ضرورت ہے، امید ہے کہ یہ کوششیں کامیاب ہوئیں تو ہم پی آئی اے اور دوسری ایئر لائنز سے چارٹر فلائٹس شروع کرنے کےلئے بھی کہیں گے۔