پاکستان علاقائی تجارت کا مرکز بننےکی جانب گامزن ہے، وسطی ایشیا کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کیلئے نئے تجارتی راستے فعال کئے جا رہے ہیں۔ پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں کو گوادر اور کراچی بندگاہ سے منسلک کر کے علاقائی تجارت کا مرکز بننے کیلئے فعال اقدامات کر رہا ہے
پاکستان علاقائی تجارت کا مرکز بننےکی جانب گامزن، وسطی ایشیا کوعالمی منڈیوں سے جوڑنے کیلئے نئے تجارتی راستے فعال

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جولائی (اے پی پی):پاکستان علاقائی تجارت کا مرکز بننےکی جانب گامزن ہے، وسطی ایشیا کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کیلئے نئے تجارتی راستے فعال کئے جا رہے ہیں۔ پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں کو گوادر اور کراچی بندگاہ سے منسلک کر کے علاقائی تجارت کا مرکز بننے کیلئے فعال اقدامات کر رہا ہے۔آذربائیجان کے میڈیادی کیسپیئن پوسٹ کے مطابق ازبکستان نے پاکستان تک رسائی کیلئےافغانستان کو بائی پاس کرتے ہوئے نئے تجارتی کوریڈورز کا استعمال شروع کردیا۔تاشقند نے پاک ایران سرحد پر واقع گبدریمندان بارڈر کےذریعے زرعی مشینری اورصنعتی خام مال کی ترسیل پہلے ہی شروع کردی ہے، اپریل 2026 میں شروع کیے گئےنئے کوریڈورز نے وسطی ایشیا کوپاکستانی بندرگاہوں اور عالمی منڈیوں تک اضافی تجارتی راستہ فراہم کردیا۔ دی کیسپیئن پوسٹ کے مطابق اکتوبر2025 میں سکیورٹی خدشات کے باعث طورخم اورچمن بارڈر کی بندش کے بعد پاکستان نے متبادل تجارتی راستے متعارف کرا دئیے، روٹ سےاب تک14 ہزارمیٹرک ٹن سے زائد کارگو منتقل کیا جاچکا، جو نئےلاجسٹک نیٹ ورک کی بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہرکرتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق نئے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک سے ٹی آئی آر نظام اورسنگل ونڈو کسٹمز پلیٹ فارم کو فروغ ملے گا،جبکہ سی پیک فیزٹومیں گوادرپورٹ کا کردار مزید مضبوط ہوگا۔پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں سے ٹرانزٹ اور لاجسٹکس کی مد میں سالانہ 3 ارب ڈالر کی آمدن حاصل کر سکتا ہے۔







