پاکستان موجودہ ہنگامی صورت حال میں سارک کے پلیٹ فارم کو متحرک اور فعال بنانے کا خواہاں ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی نیپال کے وزیر خارجہ پردیپ کمار سے ٹیلیفون پر گفتگو

اسلام آباد ۔ 22 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان موجودہ ہنگامی صورت حال میں سارک کے پلیٹ فارم کو متحرک اور فعال بنانے کا خواہاں ہے، ایران، معاشی پابندیوں کی وجہ سے کورونا وباءکے خلاف موثر اقدامات اٹھانے سے قاصر ہے، یور پی ممالک قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ترقی پذیر ممالک کوکورونا کی وباءسے نمٹنے کے لئے قرضوں کی …

اسلام آباد ۔ 22 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان موجودہ ہنگامی صورت حال میں سارک کے پلیٹ فارم کو متحرک اور فعال بنانے کا خواہاں ہے، ایران، معاشی پابندیوں کی وجہ سے کورونا وباءکے خلاف موثر اقدامات اٹھانے سے قاصر ہے، یور پی ممالک قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ترقی پذیر ممالک کوکورونا کی وباءسے نمٹنے کے لئے قرضوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کریں۔ پاکستان، سارک ممالک کی وزرائے صحت کی ویڈیو کانفرنس منعقد کروانے کا متمنی ہے تاکہ ہم اس عالمی وباءسے نمٹنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کر سکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو نیپال کے وزیر خارجہ پردیپ کمار گیاولی سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ کے مابین کرونا عالمی وبا کے پھیلاو¿ کو روکنے اور اس چیلنج سے موثر انداز میں نبرد آزما ہونے کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خارجہ نے پاکستان اور نیپال کے مابین سفارتی تعلقات کے ساٹھ سال مکمل ہونے پر نیپالی وزیر خارجہ کو مبارکباد دی ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سارک کی صورت میں ہمارے پاس ایک اہم علاقائی پلیٹ فارم موجود ہے، پاکستان کی کوشش ہے کہ اس ایمرجنسی کی صورت حال میں اس پلیٹ فارم کو متحرک اور فعال بنایا جائے، سارک ممالک ممبران کے مابین خطے میں نیپال کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ایران کے وزیر خارجہ سے بھی بات ہوئی ہے، ایران کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے، ہزاروں افراد کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایران، معاشی پابندیوں کی وجہ سے کورونا وباءکے خلاف موثر اقدامات اٹھانے سے قاصر ہے۔ ہم نے یورپی ممالک سے گزارش کی ہے کہ اس عالمی وبا کے پیش نظر ،قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے وسائل اس وبا کے پھیلاو¿ کے خلاف استعمال کر سکیں اور اس عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہو سکیں۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، سارک ممالک کی وزرائے صحت ویڈیو کانفرنس منعقد کروانے کا متمنی ہے تاکہ ہم اس عالمی وبا سے نمٹنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کر سکیں، نیپالی وزیر خارجہ نے بھی پاکستان اور نیپال کے مابین سفارتی تعلقات کے ساٹھ سال مکمل ہونے پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیپال، پاکستان کے ساتھ اپنے کثیر الجہتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایران کی صورت حال پر تشویش ہے اور نیپال ایران پر پابندیاں ختم کروانے کے حوالے سے پاکستان کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ نیپالی وزیر خارجہ نے پاکستان کی طرف سے سارک وزرا صحت کانفرنس کی تجویز کا خیر مقدم کیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے نیپالی ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جس پر نیپالی وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ حالات ساز گار ہونے پر پاکستان کا دورہ کریں گے۔