پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میںکورونا وائرس کی عالمی وباء کے باوجود اپریل کے دوران 32 فیصد اضافہ ہوا، سٹیٹ بینک

اسلام آباد ۔ 20 مئی (اے پی پی) کورونا وائرس کی عالمی وباء کے باوجود اپریل 2020ء کے دوران پاکستان میں کی جانے والی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں جولائی تا اپریل 2019-20ء کے دوران غیر ملکی کمپنیوں نے پاکستان میں …

اسلام آباد ۔ 20 مئی (اے پی پی) کورونا وائرس کی عالمی وباء کے باوجود اپریل 2020ء کے دوران پاکستان میں کی جانے والی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں جولائی تا اپریل 2019-20ء کے دوران غیر ملکی کمپنیوں نے پاکستان میں اپنے منصوبوں پر 2.28 ارب ڈالر کا سرمایہ لگایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اپریل 2020ء کے دوران ملک میں کی جانے والی ایف ڈی آئی کا حجم 133.2 ملین ڈالر تک بڑھ گیا جبکہ اپریل 2019ء کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 100.8 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ اس طرح اپریل 2019ء کے مقابلہ میں اپریل 2020ء کے دوران ایف ڈی آئی کے حجم میں 32.4 ملین ڈالر یعنی 32 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایس بی پی کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں جولائی تا اپریل 2019-20ء کے دوران غیر ملکی کمپنیوں نے پاکستان میں اپنے کاروبار میں 2.28 ارب ڈالر کا مزید سرمایہ لگایا ہے جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران تقریباً ایک ارب ڈالر کا سرمایہ لگایا گیا تھا۔ اس طرح گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے دوران سرمایہ کاری میں دوگنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اپریل 2020ء کے دوران 28.4 ملین ڈالر کی ایف ڈی آئی کے ساتھ ہانگ کانگ سرفہرست رہا ہے جبکہ 24.5 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے ہالینڈ دوسرے اور 22.5 ملین ڈالر کی ایف ڈی آئی کے نتیجہ میں امریکہ تیسرے نمبر پر رہا ہے۔ اسی طرح مالٹا کے سرمایہ کاروں کی جانب سے اس دوران 18.5 ملین ڈالر اور برطانیہ کی جانب سے 10.5 ملین ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

مزید خبریں