پاکستان میں ترشاوہ پھلوں کا قابل کاشت رقبہ ایک لاکھ 99ہزار ہیکٹر تک پہنچ گیا، پیداوار بھی 21لاکھ ٹن سالانہ سے تجاوز کرگئی

فیصل آباد۔ 03 نومبر (اے پی پی):پاکستان میں مالٹے کی اقسام میں سیلسٹیانہ، مارش ارلی، ٹراکو، گریپ فروٹ کی اقسام میں شیمبر، ریڈ بلش،ترشاوہ پھلوں کی مخلوط اقسام میں فری ماؤنٹ، فیئر چائلڈ،لیمن کی اقسام میں ایوریکا لیمن اور لائمز کی اقسام میں تہیتی لائم نے بہترین نتائج دیئے ہیں جن کی اوسط پیداوار 450پھل فی درخت تک ہے اورملک میں ترشاوہ پھلوں کا قابل کاشت رقبہ ایک لاکھ 99ہزار …

فیصل آباد۔ 03 نومبر (اے پی پی):پاکستان میں مالٹے کی اقسام میں سیلسٹیانہ، مارش ارلی، ٹراکو، گریپ فروٹ کی اقسام میں شیمبر، ریڈ بلش،ترشاوہ پھلوں کی مخلوط اقسام میں فری ماؤنٹ، فیئر چائلڈ،لیمن کی اقسام میں ایوریکا لیمن اور لائمز کی اقسام میں تہیتی لائم نے بہترین نتائج دیئے ہیں جن کی اوسط پیداوار 450پھل فی درخت تک ہے اورملک میں ترشاوہ پھلوں کا قابل کاشت رقبہ ایک لاکھ 99ہزار ہیکٹرز تک پہنچ گیاجبکہ پیداوار بھی 21لاکھ ٹن سالانہ سے تجاوز کرگئی ہے نیزگزشتہ سیزن کے دوران 5لاکھ میٹرک ٹن سے زائدکنو برآمد کرکے 198.7ملین ڈالر ز سے زائد زرمبادلہ حاصل کیاگیا۔

سٹرس فروٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان طارق رحیم نے بتایاکہ ترشاوہ پھلوں نے بین الاقوامی فروٹ مارکیٹس میں اپنی اہمیت کے لحاظ سے ایک نئی جہت حاصل کرلی ہے کیونکہ یہ پھل نہ صرف اپنے اندر انسانی صحت کو برقرار رکھنے کے حوالے سے بہترین غذائی عناصر کا مجموعہ ہے بلکہ کینسر، بلند فشار خون، افعال جگر ومعدہ کی درستگی اور ان بیماریوں کے خلاف بھر پور قوت مدافعت پیدا کرنے کا بھی حامل ہے۔

انہوں نے بتایاکہ ماہرین زراعت کی کاوشوں سے بغیر بیج یا بہت کم بیجوں والی نئی اقسام کی کاشت کے شاندار نتائج حاصل ہوئے ہیں جن کی مانگ میں بھی اضافہ ہواہے۔ انہوں نے بتایاکہ سٹرس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے بھی اس ضمن میں مثالی کردار ادا کیاہے جس نے بغیر بیج والی کئی اقسام کو بیرون ممالک سے منگوا کر جو سفارشات مرتب کیں ا ن میں مالٹے کی مختلف اقسام نے نہائت اچھے نتائج دیئے۔

انہوں نے کہاکہ اگر حکومت ترشاوہ پھلوں کے باغبانوں کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کرے تو ترشاوہ پھلوں کی پیداوار میں مزید اضافہ بھی کیاجاسکتاہے۔