وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی وزارت کی پارلیمانی سیکرٹری فرح ناز اکبر نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سروے کے ذریعے غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کے رجحانات پر باقاعدگی سے ڈیٹا جمع اور اپ ڈیٹ کر رہا ہے
پاکستان میں غذائی عدم تحفظ سے متعلق ڈیٹا باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے، فرح ناز اکبر

مزید خبریں
اسلام آباد۔22مئی (اے پی پی):وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی وزارت کی پارلیمانی سیکرٹری فرح ناز اکبر نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سروے کے ذریعے غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کے رجحانات پر باقاعدگی سے ڈیٹا جمع اور اپ ڈیٹ کر رہا ہے۔قومی اسمبلی میں جمعہ کو وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت اس مسئلے پر پہلے ہی ایک پالیسی مرتب کر چکی ہے، جو منظوری کے لیے کابینہ کو بھیج دی گئی ہے۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ پی بی ایس، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے تعاون سے 25-2024 کے لیے فوڈ انسیکیورٹی ایکسپیرنس سکیل سروے کر رہا ہے، جو گھرانوں کی مناسب خوراک تک رسائی کا معیاری اور بین الاقوامی سطح پر قابل موازنہ جائزہ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی ای ایس کے جائزوں کو قومی شماریاتی نظام میں شامل کر لیا گیا ہے تاکہ ملک بھر کے مختلف معاشی و سماجی گروپوں میں غذائی عدم تحفظ کی حد، شدت اور تقسیم کی نگرانی کی جا سکے۔پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ غذائیت اور معیارِ زندگی سے متعلق تکمیلی معلومات پاکستان سوشل اینڈ لیونگ سٹینڈرڈز میزرمنٹ (پی ایس ایل ایم) جیسے سروے کے ذریعے بھی جمع کی جاتی ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ ایف آئی ای ایس سروے آٹھ تجربہ پر مبنی اشاریوں پر مبنی ہے، جن میں خوراک کی کمی کا خدشہ، غذائیت سے بھرپور کھانا نہ کھا سکنا، خوراک کی محدود اقسام، کھانے چھوڑنا، خوراک کی مقدار کم کرنا، خوراک کا ختم ہو جانا، بھوک کا سامنا کرنا اور وسائل کی کمی کی وجہ سے پورا دن بغیر کھانے کے گزارنا شامل ہیں۔ان اشاریوں کی بنیاد پر گھرانوں کو غذائی طور پر محفوظ، ہلکا غذائی عدم تحفظ، اعتدال پسند غذائی عدم تحفظ یا شدید غذائی عدم تحفظ کے زمرے میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کے لیے ٹارگٹڈ سوشل پروٹیکشن اقدامات اور زرعی سپورٹ اقدامات کے ذریعے کام کر رہی ہے۔








