پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت اور جدید مالیاتی نظام کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 نافذ کر دیا ہے جس کے تحت پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کو عملی شکل دی گئی ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثہ جات اور ٹوکنائزڈ معیشت کے فروغ کیلئے اہم پیش رفت، ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 نافذ

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت اور جدید مالیاتی نظام کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 نافذ کر دیا ہے جس کے تحت پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کو عملی شکل دی گئی ہے۔نئے قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کے تحت ڈیجیٹل اثاثہ جات کے شعبے کو منظم بنانے، سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور جدید مالیاتی ٹیکنالوجیز کے فروغ کیلئے اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ڈیجیٹل اثاثہ جاتی سرگرمیوں کے لیے بینکنگ سہولیات اور ریگولیٹری سینڈ باکس کا آغاز بھی کر دیا ہے تاکہ جدید مالیاتی مصنوعات اور خدمات کی آزمائش اور ترقی ممکن بنائی جا سکے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرپٹو اثاثوں کے صارفین کی تعداد 4 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ سالانہ لین دین کا حجم 300 ارب ڈالر سے زائد بتایا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں ڈیجیٹل اثاثہ ایکو سسٹم کے لیے لائسنسنگ کا باقاعدہ عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔مزید برآں شیئرز، قرضہ جاتی آلات اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں میں ٹوکنائزیشن کے مختلف منصوبوں کا آغاز کیا گیا ہے جس سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونے اور مالیاتی منڈیوں میں شفافیت و رسائی بہتر ہونے کی توقع ہے۔حکومت بلاک چین ٹیکنالوجی کی مدد سے جدید ڈیجیٹل سرمایہ کاری اور مالیاتی نظام متعارف کرا رہی ہے جس کا مقصد سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنانا، مالیاتی خدمات تک رسائی میں اضافہ کرنا اور معیشت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ مالی اور ڈیجیٹل اصلاحات پاکستان کی پائیدار اور مستقبل پر مبنی معاشی منصوبہ بندی کا مظہر ہیں اور ملک کو جدید عالمی ڈیجیٹل مالیاتی نظام سے موثر انداز میں منسلک کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔








