اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات مصطفیٰ کمال نے منگل کو سینیٹ کو بتایا کہ پاکستان نرسنگ کونسل کو گزشتہ 48 گھنٹوں میں از سر نو تشکیل دے کر ایک نئے ادار ہ کی شکل دے دی گئی ہے اور اب اسے ڈیجیٹائز کیا جارہا ہے تاکہ شفافیت، احتساب اور نرسنگ کے شعبے میں اعتبار کو یقینی بنایا جاسکے۔سوال و جواب کے سیشن کے دوران مختلف …
پاکستان نرسنگ کونسل کو از سر نو تشکیل دے کر نئے ادار ہ کی شکل دے دی گئی ہے، وفاقی وزیر قومی صحت
اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات مصطفیٰ کمال نے منگل کو سینیٹ کو بتایا کہ پاکستان نرسنگ کونسل کو گزشتہ 48 گھنٹوں میں از سر نو تشکیل دے کر ایک نئے ادار ہ کی شکل دے دی گئی ہے اور اب اسے ڈیجیٹائز کیا جارہا ہے تاکہ شفافیت، احتساب اور نرسنگ کے شعبے میں اعتبار کو یقینی بنایا جاسکے۔سوال و جواب کے سیشن کے دوران مختلف ضمنی سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ سابقہ کونسل عدالتی مقدمات، الزامات اور وزارتی نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے مسائل کا شکار رہی جس کے باعث اصلاحات ناممکن تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اب وزارت براہ راست ذمہ دار ہے، مکمل ریکارڈ ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے اور کوئی بدعنوانی یا جعلی ادارہ چھپ نہیں سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئی نرسنگ کونسل اس بات کو یقینی بنائے گی کہ صرف مستند ادارے اور افراد ہی نظام کا حصہ رہیں جبکہ جعلی ڈگریاں اور مشکوک کالجز ختم کر دیئے جائیں۔ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت ملک کے اندر 11 لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے جبکہ عالمی سطح پر 25 لاکھ نرسوں کی طلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ ہماری ورک فورس کے لیے اندرون ملک اور بیرون ملک بے پناہ مواقع فراہم کرتا ہے۔ کونسل کو ڈیجیٹائز اور ریفارم کرکے ہم اس کے اعتبار کو محفوظ بنا رہے ہیں اور تربیت یافتہ نرسوں کے لیے مواقع کو مزید مستحکم کر رہے ہیں۔









