پاکستان نےاقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال کے سامنے بچوں کی صورتحال، قانونی تحفظات اور پالیسی اقدامات پر مشتمل رپورٹ پیش کر دی

اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):پاکستان نے بچوں کی صورتحال، قانونی تحفظات اور پالیسی اقدامات پر مشتمل اپنی مفصل رپورٹ اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال کے سامنے پیش کردی جس میں تعلیم، صحت، تحفظ، نوعمر انصاف اور سماجی بہبود کے شعبوں میں کی گئی پیشرفت اور درپیش چیلنجز کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے ذریعے پاکستان نے بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لئے کئے …

اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):پاکستان نے بچوں کی صورتحال، قانونی تحفظات اور پالیسی اقدامات پر مشتمل اپنی مفصل رپورٹ اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال کے سامنے پیش کردی جس میں تعلیم، صحت، تحفظ، نوعمر انصاف اور سماجی بہبود کے شعبوں میں کی گئی پیشرفت اور درپیش چیلنجز کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے ذریعے پاکستان نے بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لئے کئے گئے قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات، حکومتی اقدامات اور مستقبل کے عزم سے کمیٹی کو آگاہ کیا جبکہ اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے سوالات کے جوابات دے کر بین الاقوامی سطح پر شفافیت اور جوابدہی کے عزم کا اظہار کیا۔

نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق( این سی ایچ آر ) جسٹس پراجیکٹ پاکستان (جے پی پی )، گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان، پارلیمنٹرینز کمیشن برائے انسانی حقوق (پی سی ایچ آر) اور لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی (ایل اے جے اے ) نے جمعہ کو باہمی اشتراک سے اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال کے ساتھ پاکستان کے انٹرایکٹو مکالمے کی براہِ راست سکریننگ کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر بالمشافہ گفتگو کا بھی اہتمام کیا گیا تاکہ کارروائی کے تناظر کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور باخبر و بامعنی شمولیت کو فروغ دیا جا سکے۔

این سی ایچ آر سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یورپی یونین کے تعاون سے منعقد ہونے والے اس سیشن میں سول سوسائٹی کے نمایاں کارکنان، سفارتکار، وکلا، بچوں کے حقوق کے علمبردار، ماہرینِ تعلیم، پالیسی پریکٹیشنرز اور قانونی امداد سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، جو بچوں کے حقوق، فوجداری انصاف میں اصلاحات اور انسانی حقوق کی جوابدہی کے شعبوں میں سرگرم ہیں۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز کو یکجا کرنے کا مقصد باخبر مکالمے کو فروغ دینا، بین الشعبہ جاتی تعاون کی حوصلہ افزائی کرنا اور سی آر سی  کے جائزہ عمل کے ساتھ قومی سطح پر مؤثر شمولیت کو مضبوط بنانا تھا۔

اقوامِ متحدہ کا کنونشن برائے حقوقِ اطفال  (سی آر سی) انسانی حقوق کا سب سے زیادہ توثیق شدہ بین الاقوامی معاہدہ ہے، جو بچوں کے شہری، سیاسی، معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ یہ کنونشن بچوں کو باقاعدہ حقوق رکھنے والے فریق کے طور پر تسلیم کرتا ہے اور ریاستوں پر لازم قرار دیتا ہے کہ بچوں کے بہترین مفاد کو ان سے متعلق تمام اقدامات میں اولین ترجیح دی جائے، انہیں تشدد، استحصال اور بدسلوکی سے محفوظ رکھا جائے، اور آزادی سے محرومی کو صرف آخری حل اور کم سے کم مناسب مدت کے لئے استعمال کیا جائے۔

پاکستان نے 1990 میں سی آر سی کی توثیق کی (اور ایسا کرنے والا پانچواں ملک بنا) جس کے نتیجے میں وہ اپنے قوانین، پالیسیوں اور عملی اقدامات کو کنونشن کے معیار کے مطابق ہم آہنگ کرنے کا پابند ہے۔ سی آر سی کے آرٹیکل 44 کے تحت، رکن ممالک کو اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال کو باقاعدہ رپورٹس پیش کرنا ہوتی ہیں۔ یہ کمیٹی ایک آزاد ماہر ادارہ ہے جو عملدرآمد کا جائزہ لیتی ہے، حکومتوں کے ساتھ تعمیری مکالمہ کرتی ہے اور اصلاحات کے لئے حتمی مشاہدات اور سفارشات جاری کرتی ہے۔ اگست 2023 میں پاکستان نے اپنی مشترکہ چھٹی اور ساتویں دورانیہ جاتی رپورٹ پیش کی، جو جون 2016 سے جون 2021 تک کے عرصے کا احاطہ کرتی ہے۔

کمیٹی کے سامنے پاکستان کا یہ جائزہ ایک نہایت اہم مرحلہ ہے، بالخصوص ملک میں بچوں کی بڑی آبادی اور بچوں کے حقوق کو متاثر کرنے والے مستقل ساختی مسائل کے پیشِ نظر، جن میں نوعمر انصاف، تعلیم، صحت، تشدد سے تحفظ اور قانونی تحفظات تک رسائی شامل ہیں۔دو روزہ سی آر سی جائزہ عمل نے اس بات کا ایک اہم موقع فراہم کیا کہ پاکستان نے بچوں کے حقوق کے تمام پہلوؤں میں اپنی ذمہ داریوں پر کس حد تک عمل کیا ہے۔ قومی شواہد تعلیم، صحت، بچوں کے تحفظ اور شمولیت میں موجود خلا کی نشاندہی کرتے ہیں، جو مؤثر قانونی اور ادارہ جاتی تحفظات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

یورپی یونین کے جی ایس پی پلس نظام سمیت پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تناظر میں، سی آر سی  کا بامعنی نفاذ قانون کی حکمرانی، سماجی شمولیت اور بچوں کے لیے منصفانہ نتائج کے فروغ کے لئے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔دو روزہ جائزہ عمل کا آغاز کمیٹی کے ساتھ پاکستان کے انٹرایکٹو مکالمے کے پہلے سیشن سے ہوا۔ اس دوران کمیٹی کے اراکین نے ریاست سے متعدد اہم اور براہِ راست سوالات کیے، جن میں یہ شامل تھا کہ آیا بچوں کے لئے بجٹ تخصیص ، بچوں دوست ہیں اور انہیں مناسب ترجیح دی جا رہی ہے یا نہیں، والدین کی معاونت سے محروم بچوں کے لیے متبادل نگہداشت کس طرح یقینی بنائی جا رہی ہے اور بچوں کے لیے سزائے موت پر پابندی پر عملی طور پر کس حد تک عملدرآمد ہو رہا ہے۔

کمیٹی نے قانون سے متصادم بچوں کے لیے مفت قانونی امداد تک رسائی اور عمر کے تعین کے طریقہ کار کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے۔ وزیرِ مملکت برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق بیرسٹر عقیل ملک کی قیادت میں پاکستانی وفد نے اقوامِ متحدہ کی 18 آزاد ماہرین پر مشتمل کمیٹی کے سامنے بچوں کے حقوق کے حصول میں ہونے والی پیش رفت پر مبنی رپورٹ پیش کی اور کمیٹی کے اراکین کے سوالات کے جوابات دیئے۔اپنے ابتدائی کلمات میں وزیرِ مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے وضاحت کی کہ پاکستان کا قانونی فریم ورک بچوں کو آزاد حقوق رکھنے والے فریق کے طور پر تسلیم کرتا ہے، اور نوعمر انصاف نظام ایکٹ 2018 جیسے قوانین ریاستی ردِعمل کو سزا کے بجائے بحالی، متبادل اقدامات اور سماجی انضمام کی جانب موڑتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ قانون بچوں اور بالغ مجرموں کے درمیان واضح قانونی تفریق قائم کرتا ہے۔انہوں نے زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2020 کو ایک اہم اصلاح قرار دیا، جس کے ذریعے بچوں کے اغوا، بدسلوکی اور جنسی استحصال کے معاملات میں ادارہ جاتی ہم آہنگی اور فوری ردِعمل میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹیز، جووینائل جسٹس کمیٹیز اور زینب الرٹ سیلز جیسے ادارے عارضی اقدامات کے بجائے مستقل ادارہ جاتی نظام کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آئین کا آرٹیکل 25۔اے پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لئے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے، جس سے تعلیم ایک قابلِ نفاذ آئینی حق بن چکی ہے۔

وزیرِ مملکت نے وضاحت کی کہ احساس اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) جیسے سماجی تحفظ کے اقدامات خاندانی غربت کو کم کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں تاکہ بچے اسکول میں رہ سکیں، چائلڈ لیبر سے بچیں اور ضروری غذائیت و صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ حفاظتی ٹیکوں ، زچگی کی صحت اور بچوں کی غذائیت سے متعلق قومی پروگرام بچے کی بقاء اور صحت مند جسمانی نشوونما کے حق سے ہم آہنگ ہیں۔کمیٹی کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزارتِ انسانی حقوق کے سیکرٹری عبد الخالق شیخ نے کہا کہ پاکستان نے سول سوسائٹی اور نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ کے اشتراک سے آن لائن بدسلوکی، ہراسانی اور سائبر جرائم سے بچوں کے تحفظ کے لیے مضبوط قانونی و پالیسی اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ فوجداری قوانین میں ترامیم کے ذریعے بچوں کے خلاف جرائم، بالخصوص سائبر نوعیت کی خلاف ورزیوں پر سزاؤں کو سخت کیا گیا ہے۔رکنِ وفد سارہ احمد، ایم پی اے اور چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن ویلفیئر بیورو نے پولیو کے خاتمے میں پاکستان کی پیش رفت کو اجاگر کیا، جس میں بہتر رسائی، سیکیورٹی مسائل میں کمی اور ویکسی نیشن کی توسیع شامل ہے، تاہم انہوں نے جنوبی خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں موجود چیلنجز کا اعتراف بھی کیا۔

ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے انہوں نے پاکستان کے حقوق پر مبنی تولیدی صحت کے فریم ورک، آئینی تحفظات اور خواتین و بچیوں کے لیے صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے والی قومی پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔معذور بچوں اور اسکول سے باہر بچوں سے متعلق سوالات کے جواب میں رکنِ وفد بیرسٹر حیا زاہد، سی ای او لیگل ایڈ سوسائٹی نے کہا کہ تعلیم ایک قومی ایمرجنسی ہے، جس کے تحت 25 ارب روپے کے آؤٹ آف اسکول چلڈرن فنڈ کی حمایت حاصل ہے اور اسے مزید بڑھانے کے منصوبے موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کا اسکول چھوڑنا محض تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک جامع سماجی تحفظ کا چیلنج ہے۔انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سندھ میں ایک مخصوص جامع تعلیمی یونٹ کے تحت 500 ماڈل انکلیوسیو سکولز قائم کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ 1,300 سے زائد اساتذہ کو تربیت دی جا چکی ہے جس سے 132,000 معذور بچوں کو فائدہ پہنچا ہے۔وزیرِ اعظم کے مشیر بیرسٹر ظفراللہ خان نے سی آر سی جائزہ کے موقع پر بچوں میں ذیابیطس کے حوالے سے پاکستان کے چینجنگ ڈائبیٹیز ان چلڈرن پروگرام پر روشنی ڈالی، جس کے تحت 27 خصوصی کلینکس میں مفت انسولین اور ضروری سامان فراہم کیا جا رہا ہے اور 2030 تک 6,000 بچوں کی معاونت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قانون ریاست کو تحفظ مراکز، سیف ہاؤسز اور دیگر حفاظتی سہولیات قائم کرنے کا پابند بناتا ہے۔