پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی ڈیجیٹل فرق کو کم کرنے میں دنیا کی تیز ترین ترقی ریکارڈ کی ہے، شزا فاطمہ خواجہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، سائبر سکیورٹی، پبلک ڈیٹا سسٹمز اور ڈیجیٹل ریگولیشن کی ترقی میں خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں بامعنی مقام ملنا چاہیے۔انہوں نے پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے، شراکت دار ممالک سے سیکھنے اور خواتین کو ڈیجیٹل بااختیار بنانے کے لیے عملی شراکت داری …

اسلام آباد۔13جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، سائبر سکیورٹی، پبلک ڈیٹا سسٹمز اور ڈیجیٹل ریگولیشن کی ترقی میں خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں بامعنی مقام ملنا چاہیے۔انہوں نے پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے، شراکت دار ممالک سے سیکھنے اور خواتین کو ڈیجیٹل بااختیار بنانے کے لیے عملی شراکت داری قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔

پیر کے ​وزارت انسانی حقوق کے زیر اہتمام خواتین سے متعلق 9 ویں او آئی سی وزارتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی ڈیجیٹل فرق (مردوں اور عورتوں کے درمیان فرق) کو کم کرنے میں دنیا کی تیز ترین ترقی ریکارڈ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ایم اے کے مطابق پاکستان نے ڈیجیٹل شمولیت خاص طور پر موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں دنیا کی سب سے بڑی بہتری ریکارڈ کی ہے۔​انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے عہدہ سنبھالا تو پاکستان میں صنفی ڈیجیٹل فرق 35 فیصد تھا، یہ 2025ء میں کم ہو کر 25 فیصد رہ گیا اور 2026ء کی رپورٹ میں مزید گر کر صرف 8 فیصد پر آ گیا جس نے پاکستان کو موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق کو ختم کرنے والا دنیا کا تیز ترین ملک بنا دیا ہے۔​

شزافاطمہ خواجہ نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران خواتین میں موبائل انٹرنیٹ اپنانے کی شرح 33 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد ہو گئی ہے ​تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف کنیکٹیویٹی (انٹرنیٹ تک رسائی) ہی کافی نہیں ہے، کامیابی کا اصل معیار یہ ہے کہ آیا دور دراز اور دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھنے، کمانے، ڈیجیٹل ادائیگیاں حاصل کرنے اور کاروباری شخصیت (انٹرپرینیور) بننے کے لیے کر سکتی ہیں یا نہیں۔​وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کے ڈیجیٹل تبدیلی کے اقدامات نے کم آمدنی والے خاندانوں کی خواتین کو ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کے ذریعے باعزت طریقے سے مالی امداد فراہم کر کے بااختیار بنایا ہے۔​وفاقی حکومت کے رمضان سبسڈی پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر اس اقدام کو سرکاری ریٹیل آئوٹ لیٹس سے ڈیجیٹل ادائیگیوں پر منتقل کیا گیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مستحقین کو مالی امداد عزت کے ساتھ ملے۔

​انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت ملک کی سب سے کم آمدنی والی آبادی میں ایک ماہ کے اندر 8 لاکھ ڈیجیٹل والٹس بنائے گئے۔ اس سال مزید 9 لاکھ خواتین ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کا حصہ بنی ہیں۔​شزافاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت نے نجی شعبے کے تعاون سے اور وزیر اعظم کی قیادت میں ملک بھر میں خواتین کو 10 ملین (ایک کروڑ) مفت سم کارڈز بھی تقسیم کیے تاکہ وہ ڈیجیٹل معیشت میں سرگرم حصہ دار بن سکیں۔ انہوں نے ان اقدامات کو ایک ساختی تبدیلی قرار دیا جو ملک کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں خواتین کی شمولیت کو قدرتی طور پر وسعت دے گی۔​وزیر برائے آئی ٹی نے کہا کہ خواتین کو محض ٹیکنالوجی حاصل کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں اس کی تخلیق کار اور فیصلہ ساز بھی بننا چاہیے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مصنوعی ذہانت (اے آئی) ہر شعبے کا مرکز بن رہی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشین لرننگ ماڈلز اور اے آئی الگورتھم میں خواتین کے تجربات اور نقطہ نظر کی عکاسی ہونی چاہیے تاکہ منظم طور پر ان کی محرومی کو روکا جا سکے ۔​انہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، سائبر سکیورٹی، پبلک ڈیٹا سسٹمز اور ڈیجیٹل ریگولیشن کی ترقی میں خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں بامعنی مقام ملنا چاہیے۔​شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان کا ماننا ہے کہ ہر لڑکی کو ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی تک رسائی ہونی چاہیے جبکہ ہر خاتون کو ایک محفوظ ڈیجیٹل شناخت اور مالیاتی اکاؤنٹ حاصل کرنے اور اسے کنٹرول کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کاروباری افراد کو ڈیجیٹل مارکیٹوں تک رسائی اور ٹیکنالوجی پر مبنی اقتصادی ترقی میں حصہ لینے کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔​انہوں نے خواتین کی ترقی کے لیے او آئی سی پلان آف ایکشن کے تحت ڈیجیٹل ملکیت، ٹیکنالوجی کے استعمال، آمدنی پیدا کرنے، کاروبار کی ترقی، پیشہ ورانہ ترقی اور قیادت میں پیش رفت کی نگرانی کے لیے قابل پیمائش اشارےمقرر کرنے پر زور دیا۔

فاقی ​وزیر نے او آئی سی کے رکن ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ ان خواتین کی حوصلہ افزائی کریں جو ٹیکنالوجی میں رکاوٹوں کو توڑ رہی ہیں اور پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے، شراکت دار ممالک سے سیکھنے اور خواتین کو ڈیجیٹل بااختیار بنانے کے لیے عملی شراکت داری قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔​شزافاطمہ خواجہ نے کہا کہ مستقبل ڈیجیٹل حقوق کی ضمانت دینے، صلاحیتوں کو نکھارنے، اداروں کے دروازے کھولنے اور ٹیکنالوجی کو شمولیت کے لیے جوابدہ بنانے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو محض ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے والی نہیں بلکہ ڈیجیٹل مستقبل کی تشکیل میں برابر کا شراکت دار تسلیم کیا جانا چاہیے۔​انہوں نے مزید کہا کہ ایک خوشحال اور جامع معاشرے کی تعمیر کے لیے خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی بااختیاری ناگزیر ہے اور ٹیکنالوجی کو خواتین کی شرکت کے لیے ایک ذریعہ بننا چاہیے نہ کہ اخراج کا سبب بنے۔​

وزیر آئی ٹی نے کہا کہ معاشرے اس وقت زیادہ امیر، خوش حال اور شہری طور پر فعال ہوتے ہیں جب خواتین کو فیصلہ سازوں، کاروباری شخصیات، سائنسدانوں، اساتذہ، سرکاری ملازمین اور سیاسی رہنمائوں کے طور پر بااختیار بنایا جاتا ہے۔​انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پاکستان کا وژن تین اہم ستونوں تعلیم، قانونی اور معاشی اصلاحات اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچرپر مبنی ہے۔​شزافاطمہ نے کہا کہ تعلیم ہر دوسری آزادی کی بنیاد ہے جو خواتین کو مالی آزادی حاصل کرنے اور عوامی زندگی میں بامعنی طور پر حصہ لینے کے قابل بناتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانونی اصلاحات کے ساتھ ایک سازگار ماحول کا ہونا ضروری ہے جس میں فنانس، مالیاتی خواندگی، رہنمائی، مارکیٹ تک رسائی اور قیادت کے مواقع شامل ہوں۔​وزیر نے کہا کہ خواتین کو علم، تکنیکی مہارت اور اعتماد سے لیس کرنے سے معیشت میں ان کی شرکت کی رکاوٹیں دور ہوں گی، جی ڈی پی کی ترقی تیز ہوگی، غربت میں کمی آئے گی اور کام کی جگہوں پر جدت کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ افرادی قوت میں خواتین کی زیادہ شرکت سے چھپی ہوئی صلاحیتیں سامنے آئیں گی اور کمیونٹیز میں زندگی کا معیار بہتر ہوگا۔​انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر خواتین کو براہ راست مالیاتی کنٹرول حاصل کرنے، باقاعدہ معیشت کا حصہ بننے اور دور دراز علاقوں سے تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، سماجی تحفظ اور سرکاری خدمات تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل خدمات غیر ضروری تاخیر، صوابدیدی طریقوں اور غیر رسمی ادائیگیوں (رشوت وغیرہ) کو کم کرتی ہیں جبکہ عوامی خدمات تک رسائی کو بہتر بناتی ہیں۔​شزافاطمہ خواجہ نے کہا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کو خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک اہم بنیادی ڈھانچہ سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک انٹرنیٹ سے جڑا ہوا آلہ (موبائل/کمپیوٹر) سکولوں سے دور رہنے والی لڑکیوں تک تعلیم پہنچا سکتا ہے جبکہ محفوظ ڈیجیٹل اکائونٹس خواتین کو اپنی آمدنی پر براہ راست کنٹرول دیتے ہیں۔

اسی طرح آن لائن مارکیٹوں ،گھر بیٹھے کاروبار کرنے والی خواتین کو اپنے کاروبار کو مقامی بازاروں سے آگے بڑھانے اور بین الاقوامی صارفین تک پہنچنے کے قابل بناتی ہیں ​تاہم وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ اگر خواتین کے پاس موبائل فون، سستا انٹرنیٹ، ڈیجیٹل شناخت، ڈیجیٹل مہارت یا آن لائن ہراساں کیے جانے سے تحفظ نہ ہو تو ٹیکنالوجی عدم مساوات کو مزید گہرا بھی کر سکتی ہے۔​انہوں نے کہا کہ سوال صرف یہ نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی دستیاب ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس تک کس کی رسائی ہے، اسے کون کنٹرول کرتا ہے اور یہ کس کے لیے بنائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل شرکت کو ادارہ جاتی شرکت کی طرف لے جانا چاہیے۔​پاکستان کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ملک نے ہمیشہ مضبوط خواتین لیڈر پیدا کی ہیں۔

انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کو بانی قوم کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے پر، سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے طور پر، سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کو مشکل سیاسی وقت میں ان کی جرات پر اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو شہریوں کی فلاح و بہبود پر مرکوز ترقیاتی قیادت پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔وفاقی ​وزیر نے کہا کہ پاکستانی خواتین آج مختلف شعبوں میں کاروباری افراد، انجینئرز، سائنسدانوں، سٹارٹ اپ بانیوں اور پیشہ ور افراد کے طور پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی ذمہ داری یہ یقینی بنانا ہے کہ ان کی کامیابی محض استثنیٰ نہیں بلکہ ایک عام روایت بن جائے۔