اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):پاکستان میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی عوام ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور مزید قریبی تعلقات کی توقع کرتے ہیں،پاکستان کے ساتھ مضبوط عوامی رابطہ اور تجارت میں اضافہ ان کے سفارتی مشن کی ترجیحات ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’اے پی پی‘‘ کو انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان …
پاکستان وسطی ایشیا،چین، مغرب اور دیگر ممالک کے لیے گیٹ وے ہے،اس کی معدنیات اور بہت سی مصنوعات کی دنیا بھر میں مانگ ہے، باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے، بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان کی ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):پاکستان میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی عوام ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور مزید قریبی تعلقات کی توقع کرتے ہیں،پاکستان کے ساتھ مضبوط عوامی رابطہ اور تجارت میں اضافہ ان کے سفارتی مشن کی ترجیحات ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’اے پی پی‘‘ کو انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ماربل گرینائٹ، کوئلہ سمیت بہت سی معدنیات ہیں ،زرعی پیداوار میں چاول، چینی اور دیگر مصنوعات کی بہتات ہے جن کی بنگلہ دیش میں بہت زیادہ مانگ ہے۔ بنگلہ دیش میں مزیدار انناس، انجینئرنگ مصنوعات، ریڈی میڈ ملبوسات وغیرہ ہیں ۔ہائی کمشنر نے کہا کہ تسلسل پاکستان اور بنگلہ دیش کی تجارت کو 5 ارب امریکی ڈالر تک بڑھا سکتا ہے۔تجارت کے حجم کو بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔
ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری بڑی جاندار ہے، اس کا کپڑا اور دھاگہ بنگلہ دیش میں بہت مقبول ہے۔ بنگلہ دیش میں ہمارے بہن بھائی پاکستانی کپڑے سے کو بہت پسند کرتے ہیں، پاکستان کا کپڑا بنگلہ دیش کے ریڈی میڈ گارمنٹس کی تیاری میں استعمال ہوتاہے ۔ پاکستانی بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو تکنیکی علم، مشاورت، مشینری ، سرمایہ کاری اور تجربہ فراہم کر رہے ہیں، ان کا اس کی معیشت میں بہت اہم کردار ہے۔انہوں نےکہا کہ پاکستان وسطی ایشیا،چین، مغرب اور دیگر ممالک کے لیے گیٹ وے ہے۔ بنگلہ دیش میں تیار ہونے والے خواتین کے ملبوسات کو پاکستان میں پسند کیا جاتا ہے، ایک دوسرے کا ساتھ دےکر ہم دونوں عالمی منڈی میں اپنی رسائی کو بڑھا سکتے ہیں۔ ہائی کمشنر بنگلہ دیش نے کہا کہ پاکستان اعلیٰ معیار کی کپاس پیدا کرتا ہے جبکہ بنگلہ دیش ابھی تک کپاس پیدا نہیں کرتا۔مجموعی طور پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ دونوں ممالک کے ٹیکسٹائل اور گارمنٹس سیکٹر میں ترقی کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی معیشت آزاد ہے جہاں بہت سے ممالک سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور میں پاکستان کے برادران کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ وہاں اپنی دلچسپی اور سرمایہ کاری میں اضافہ کریں۔پاکستان اور بنگلہ دیش سارک، D-8 ممالک کے رکن بھی ہیں اور ان کے پاس ترجیحی تجارت کے لیے کچھ انتظامات ہیں لیکن انہیں مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔محمد اقبال حسین خان نے کہا کہ دونوں ممالک کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے جن سے وہ مل کر نمٹ سکتے ہیں۔
ہائی کمشنر نے کہا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان دونوں میں سیاحت کی بہت بڑی صلاحیت، متنوع مناظر، تاریخ، ساحلی علاقے، میدانی علاقے، پہاڑ اور سیاحوں کے لیے مختلف دیگر منفرد دلچسپی کے مواقع ہیں۔ میں نے پاکستان کے مختلف حصوں کا دورہ کیا ہے اور اسے سیاحوں کے لیے ایک شاندار جگہ کے طور پر پایا ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے نوجوان پاکستان کا دورہ کرنا پسند کرتے ہیں ۔مجھے یقین ہے کہ ہمارے قریبی تعلقات کی وجہ سے دونوں ممالک کے سیاحت کے شعبوں میں خاطر خواہ ترقی ہوگی۔








