پاکستان کو بڑا مسئلہ بھارت کی جانب سے پانی کے بہائو سے متعلق بروقت معلومات فراہم نہ کرنا بھی ہے، حاجی محمد جعفر

ایکسیئن مرالہ ہیڈورکس نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت بڑا مسئلہ بھارت کی جانب سے پانی کے بہائو سے متعلق بروقت معلومات فراہم نہ کرنا بھی ہے، پانی کے اخراج میں اچانک کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہوتا ہے جس کے باعث کسانوں کو اپنی مقررہ باری پر آبپاشی کے لیے پانی دستیاب نہیں رہتا اور فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

لاہور۔19جولائی (اے پی پی):ایکسیئن مرالہ ہیڈورکس نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت بڑا مسئلہ بھارت کی جانب سے پانی کے بہائو سے متعلق بروقت معلومات فراہم نہ کرنا بھی ہے، پانی کے اخراج میں اچانک کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہوتا ہے جس کے باعث کسانوں کو اپنی مقررہ باری پر آبپاشی کے لیے پانی دستیاب نہیں رہتا اور فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایکسیئن حاجی محمد جعفر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث دریائے چناب کے پانی کے بہائو میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے سے پاکستان کے آبپاشی نظام اور زرعی شعبے کو شدید خدشات لاحق ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کے لیے مختص ہے، معاہدہ بھارت کو مغربی دریائوں کے پانی کو ذخیرہ کرنے، اسے کسی دوسرے دریائی کیچمنٹ میں منتقل کرنے یا بڑے پیمانے پر زرعی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پانی کی صوبائی تقسیم1991 کے معاہدے کے تحت کی جاتی ہے اور محکمہ آبپاشی اسی تناسب سے مختلف نہروں میں پانی چھوڑتا ہے۔ حاجی محمد جعفر نے کہا کہ دریائے چناب سے آنے والا پانی اپر چناب کینال، مرالہ راوی لنک کینال اور دیگر نہری نظام کے ذریعے وسطی اور جنوبی پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے اس لیے دریائے چناب کے پانی میں کسی بھی قسم کی کمی کے اثرات وسیع زرعی علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ جدید آبپاشی طریقوں اور زرعی ٹیکنالوجی کو اپنائیں، پانی کے ضیاع سے بچیں اور دستیاب وسائل کا موثر استعمال یقینی بنائیں تاکہ ممکنہ آبی قلت کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔