اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):پاکستان نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں مساجد اور ان کی انتظامی کمیٹیوں کی پروفائلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کھلی مداخلت مذہبی آزادی اور عقیدے کے بنیادی حق کی سنگین خلاف ورزی ، مقبوضہ علاقے کی مسلم آبادی کو خوفزدہ کرنے اور انہیں پس منظر میں دھکیلنے کی ایک اور جابرانہ کوشش ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ …
پاکستان کی جموں و کشمیر میں مساجد اور ان کی انتظامی کمیٹیوں کی بھارتی پروفائلنگ کی شدید مذمت،مذہبی آزادی میں مداخلت ہے،ترجمان دفتر خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):پاکستان نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں مساجد اور ان کی انتظامی کمیٹیوں کی پروفائلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کھلی مداخلت مذہبی آزادی اور عقیدے کے بنیادی حق کی سنگین خلاف ورزی ، مقبوضہ علاقے کی مسلم آبادی کو خوفزدہ کرنے اور انہیں پس منظر میں دھکیلنے کی ایک اور جابرانہ کوشش ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے ہفتے کو جاری بیان میں کہا کہ مذہبی ذمہ داران کے ذاتی کوائف، تصاویر اور مسلکی وابستگیوں کی جبری طور پر معلومات اکٹھی کرنا منظم ہراسانی کے مترادف ہے جس کا مقصد عبادت گزاروں میں خوف پیدا کرنا اور انہیں اپنے مذہب پر آزادانہ عمل سے روکنا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ اقدامات قابض بھارتی حکومت کی ہندوتوا نظریے سے متاثر ادارہ جاتی اسلاموفوبیا کے ایک وسیع تر سلسلہ کا حصہ ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مساجد اور مسلم علما کو مخصوص طور پر نشانہ بنانا ان پالیسیوں کے امتیازی اور فرقہ وارانہ کردار کو بے نقاب کرتا ہے۔ بیان کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کو خوف، جبر اور امتیاز کے بغیر اپنے مذہب پر عمل کرنے کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ان کے خلاف مذہبی ظلم و ستم اور عدم برداشت کی تمام صورتوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔








