فیصل آباد ۔ 12 فروری (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علماء کونسل و نمائندہ خصوصی وزیراعظم/کوآرڈینیٹر قومی پیغامِ امن کمیٹی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے تمام مکاتبِ فکر کے جید علما کرام کے ہمراہ سانحہ ترلائی راولپنڈی اور بلوچستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے امن، اتحاد اور استحکام کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام …
پاکستان کے امن، اتحاد اور استحکام کیخلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا، حافظ محمد طاہر محمود اشرفی

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 12 فروری (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علماء کونسل و نمائندہ خصوصی وزیراعظم/کوآرڈینیٹر قومی پیغامِ امن کمیٹی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے تمام مکاتبِ فکر کے جید علما کرام کے ہمراہ سانحہ ترلائی راولپنڈی اور بلوچستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے امن، اتحاد اور استحکام کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا اور کسی بھی صورت دہشتگرد عناصر کو ملک کے مذہبی و سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے پشاور، لاہور اور اسلام آباد میں تمام مسالک کے علما کرام نے مشترکہ نماز ادا کر کے وحدتِ امت اور قومی یکجہتی کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر دہشتگردی، فرقہ واریت اور نفرت انگیزی کے خلاف متحد اور یک زبان ہیں۔علامہ طاہر اشرفی نے واضح اعلان کیا کہ پاکستان ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد یا گروہ کی نہ تو حمایت کی جائے گی اور نہ ہی اسے کسی قسم کی مذہبی یا سماجی پشت پناہی حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں قیامِ امن اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے طے شدہ قومی ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔انہوں نے اہلِ سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دینے سے متعلق جاری کردہ فتوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام مکاتبِ فکر کے مقدسات کا احترام لازم اور واجب ہے۔ باہمی احترام، برداشت اور رواداری ہی پاکستان کی اصل طاقت ہے اور اسی کے ذریعے ہم ہر قسم کی سازش کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ دہشتگرد عناصر اسلام اور پاکستان دونوں کے دشمن ہیں،ایسے عناصر کا کسی بھی مذہب، مسلک یا مکتبِ فکر سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے نوشکی واقعہ کے حملہ آوروں کو فتنہ خوارج قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ملک میں بدامنی پھیلانے والوں کا قلع قمع کیا جا سکے۔انہوں نے سانحہ ترلائی راولپنڈی اور بلوچستان میں بے گناہ نمازیوں اور معصوم بچوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات پوری قوم کے دلوں کو زخمی کر گئے ہیں۔
انہوں نے شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی اور حکومت کی جانب سے شہدا کے خاندانوں کے لیے امدادی پیکج اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات میں ملوث سہولت کاروں کے خلاف بھی مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی کی ضرورت ہے،قانون حرکت میں آئے گا اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے ملک کے امن و امان کے قیام کے لیے پوری طرح متحرک ہیں اور پوری قوم افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ خطباتِ جمعہ میں وحدت، اتحاد، رواداری اور قومی سلامتی کا پیغام عام کیا جائے گا تاکہ عوام الناس میں شعور و آگاہی پیدا ہو اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا گمراہ کن پروپیگنڈے کا سدباب کیا جا سکے۔
علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ حالیہ واقعات کے بعد اہلِ تشیع اور اہلِ سنت کے مابین تعزیت، خون کے عطیات اور باہمی یکجہتی کے عملی مظاہرے ایک تاریخی پیش رفت ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے عوام اور علما کرام فرقہ واریت کو مسترد کرتے ہوئے اخوت و بھائی چارے کے رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام مکاتبِ فکر کو باہمی احترام، تحمل اور سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، دشمن قوتیں پاکستان میں فرقہ وارانہ انتشار پیدا کر کے ملک کو کمزور کرنا چاہتی ہیں مگر علما کرام اور عوام الناس کی بیداری ان سازشوں کو ناکام بنائے گی۔پریس کانفرنس کے دوران تمام مکاتبِ فکر کے علما نے متفقہ طور پر دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں امن، اتحاد اور اسلامی اخوت کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن اور متحد ملک ہے اور اسے انتشار کا شکار کرنے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔آخر میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل امن، اعتدال اور وحدت میں مضمر ہے۔ علما، مشائخ، مذہبی رہنما اور عوام مل کر نفرت، انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، مستحکم اورپرامن پاکستان دیا جا سکے۔








