پاکستان کے بجلی کے شعبے کی ساختی اصلاحات کی بدولت دو برسوں میں بجلی کی تقسیم کے نظام میں موجود غیر مؤثریت میں 45 فیصد سے زائد کمی آئی ہے،اویس لغاری
پاکستان کے بجلی کے شعبے کی ساختی اصلاحات کی بدولت دو برسوں میں بجلی کی تقسیم کے نظام میں موجود غیر مؤثریت میں 45 فیصد سے زائد کمی آئی ہے،اویس لغاری

مزید خبریں
استنبول۔4جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان نے بجلی کے شعبے میں دور رس ساختی اصلاحات متعارف کرائی ہیں جن کے نتیجے میں گزشتہ دو برسوں کے دوران بجلی کی تقسیم کے نظام میں موجود غیر مؤثریت میں 45 فیصد سے زائد کمی آئی ہے۔
انہوں نے ترک سرمایہ کاروں کو بجلی کی ترسیل، اسمارٹ میٹرنگ اور بیٹری انرجی اسٹوریج سمیت مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے توانائی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے۔ہفتہ کوپاکستان۔ترکیہ بزنس کانفرنس میں ترک سرمایہ کاروں سےخطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے جامع اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی تنظیمِ نو کی ہے اور انہیں نجکاری کے لیے تیار کیا جا رہا ہے تاکہ کارکردگی، شفافیت اور عوامی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور صرف دو سال کے عرصے میں بجلی کی تقسیم کے شعبے میں غیر مؤثریت میں 45 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نجکاری کے عمل کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے قانون سازی بھی کی جا چکی ہے، جس کے تحت حکومت آئندہ کسی نئی بجلی پیدا کرنے والی کمپنی کے قیام یا خریداری کی مجاز نہیں ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں مسابقتی بجلی منڈی متعارف کرا دی گئی ہے جبکہ بجلی کی قومی گرڈ پر شفاف اور مؤثر ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے آزاد سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر بھی قائم کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل گرڈ کمپنی کی بھی تنظیمِ نو کی گئی ہے اور اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے جس کے بعد اس کی کارکردگی ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ہو گئی ہے،سرمایہ کاری کے مواقع پرروشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کے میٹرنگ نظام کو جدید اور ڈیجیٹل بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ شفافیت میں اضافہ، مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی، بجلی کے ضیاع اور چوری کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ صرف اسمارٹ میٹرنگ کے شعبے میں آئندہ دو سے تین برس کے دوران 1.7 ارب امریکی ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کی ترسیلی لائنوں کے شعبے میں بھی آئندہ چار برسوں کے دوران 830 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع دستیاب ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں جن پانچ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری نہیں کی جائے گی انہیں جدید اسمارٹ میٹرنگ سسٹمز کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے قابل بنایا جا رہا ہے، جہاں ہر منصوبے کا حجم 100 سے 150 ملین امریکی ڈالر کے درمیان ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرانسمیشن سیکٹر میں حکومت نے سرمایہ کاری کے دو بڑے منصوبہ جاتی کلسٹرز کی نشاندہی کی ہےجن کی مالیت بالترتیب 518 ملین اور 312 ملین ڈالر ہے۔
انہوں نے کہا کہ چار ٹرانسمیشن لائنوں پر مشتمل پہلا کلسٹر 2029 تک مکمل کیا جائے گا، جبکہ تین ٹرانسمیشن لائنوں پر مشتمل دوسرا کلسٹر 2030 تک مکمل ہوگا۔ سرمایہ کاروں کو انفرادی ٹرانسمیشن لائن منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کی سہولت حاصل ہوگی۔سردار اویس احمد خان لغاری نے بتایا کہ ان ٹرانسمیشن منصوبوں کی ٹیکنو اکنامک فزیبلٹی اسٹڈیز مکمل ہو چکی ہیں، ماحولیاتی جائزے جاری ہیں،
جبکہ بینکوں کے لیے قابلِ قبول تفصیلی فزیبلٹی رپورٹس رواں سال اگست تک مکمل کر لی جائیں گی۔انہوں نے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی گرڈ کے استحکام اور توانائی کے شعبے کو جدید، مؤثر اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے یہ ٹیکنالوجی ناگزیر ہے اور حکومت اس شعبے میں بھی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔







