پاکستان اور تاجکستان کے مشنز اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے اشتراک سے اقوام متحدہ میں منعقدہ اعلیٰ سطح کی تقریب کے مقررین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے فوائد تک مساوی اور عالمی رسائی یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کو انسانی ترقی اور پائیدار ترقی کا ذریعہ بننا چاہیے
پاکستان کے زیرِ اہتمام اقوام متحدہ کی تقریب میں انسانی مرکز مصنوعی ذہانت پر زور، عالمی تقسیم ختم کرنے کا مطالبہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔16جولائی (اے پی پی):پاکستان اور تاجکستان کے مشنز اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے اشتراک سے اقوام متحدہ میں منعقدہ اعلیٰ سطح کی تقریب کے مقررین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے فوائد تک مساوی اور عالمی رسائی یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کو انسانی ترقی اور پائیدار ترقی کا ذریعہ بننا چاہیے۔”اے آئی اور پائیدار ترقی کا مستقبل: جدت، شمولیت اور لچک” کے عنوان سے ہونے والی اس تقریب میں سفارتکاروں، اقوام متحدہ کے حکام، مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے ماہرین، ماہرین تعلیم، طلبہ اور نوجوان نمائندوں نے شرکت کی۔مقررین نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ترقی پذیر ممالک کے لیے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے، تاہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مالی وسائل، ڈیٹا کی صلاحیت اور تربیت یافتہ انسانی وسائل کے فقدان کے باعث ان ممالک میں پہلے سے موجود عدم مساوات مزید بڑھنے کا خطرہ ہے۔وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ اگر ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے، مہارتوں، مالی وسائل اور ڈیٹا تک رسائی چند ممالک اور طبقات تک محدود رہی تو مصنوعی ذہانت ان ہی خلیجوں کو مزید وسیع کر سکتی ہے جنہیں پائیدار ترقی کا ایجنڈا ختم کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت مواقع تک رسائی کا پل بنے، ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔تاجکستان کے وزیر برائے اقتصادی ترقی و تجارت عبدالرحمان عبدالرحمان زادہ نے بھی مصنوعی ذہانت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل تقسیم ختم کرنے کے لیے مساوی رسائی، استعداد کار میں اضافہ اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے بتایا کہ تاجکستان نے 2040 تک کی قومی مصنوعی ذہانت حکمت عملی اختیار کی ہے، جبکہ 2025 سے 2030 کو ڈیجیٹل معیشت اور جدت کے فروغ کے سال قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے خطے میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے علاقائی مرکز "آئی ٹی ہب دوشنبے” کے قیام کا بھی ذکر کیا۔تقریب میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی اے آئی ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ماہر جینیفر لوئی، گوگل اے آئی گو ٹو مارکیٹ لیڈ ہاشم سید اور یوتھ ڈیلیگیٹ بسمہ قمر سمیت دیگر ماہرین نے پینل مباحثے میں حصہ لیا۔رانا مشہود احمد خان نے پاکستان کی جانب سے نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت پر مبنی معیشت کے لیے تیار کرنے کے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مالی سال 27 ۔2026کے لیے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے لیے 40 ارب 58 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اب تک 6 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا چکے ہیں، 73 ہزار نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ڈیٹا سائنس کی تربیت دی گئی ہے، جبکہ 8 ہزار کورسز کے ذریعے 2 لاکھ 17 ہزار سے زائد تکنیکی مہارتوں کے وظائف فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل یوتھ ہب کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم پر 8 لاکھ 4 ہزار سے زائد صارفین رجسٹرڈ ہیں، جہاں ایک لاکھ 14 ہزار روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے اور 3 ہزار 180 سے زائد اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کی گئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کا مقصد 2030 تک 10 لاکھ اے آئی ماہرین اور 10 ہزار تربیت کار تیار کرنا ہے تاکہ ملک میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم، تحقیق اور جدت کو فروغ دیا جا سکے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اختتامی کلمات میں کہا کہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی تشکیل ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسانیت کو کرنی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مساوی رسائی کے بغیر مصنوعی ذہانت ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان ڈیجیٹل خلیج کو مزید بڑھا سکتی ہے۔انہوں نے عالمی اے آئی گورننس کے عمل میں بہتر ہم آہنگی اور تعاون پر زور دیتے ہوئے چار ترجیحات بیان کیں جن میں مصنوعی ذہانت کی تقسیم کو ختم کرنا، اے آئی کے فوائد کو منصفانہ ترقی میں تبدیل کرنا، نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں فعال شراکت دار بنانا اور مصنوعی ذہانت کو اخلاقی، شفاف، محفوظ اور جواب دہ بنانا شامل ہیں۔شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت کو جامع اور پائیدار ترقی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے اور عالمی شراکت داری کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس کے فوائد دنیا بھر کے لوگوں تک مساوی طور پر پہنچ سکیں۔








