پاکستان کے وکیل خاور قریشی کے عالمی عدالت انصاف کے روبرو دلائل

اسلام آباد ۔ 15 مئی (اے پی پی) عالمی عدالت انصاف نے بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے ایجنٹ بحریہ کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی ایک فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت پر حکم امتناعی کی بھارتی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ پیر کو ہیگ میں پاکستان کے وکیل خاور قریشی نے عالمی عدالت انصاف کے روبرو بھارتی درخواست کی شدید مخالفت کرتے …

اسلام آباد ۔ 15 مئی (اے پی پی) عالمی عدالت انصاف نے بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے ایجنٹ بحریہ کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی ایک فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت پر حکم امتناعی کی بھارتی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ پیر کو ہیگ میں پاکستان کے وکیل خاور قریشی نے عالمی عدالت انصاف کے روبرو بھارتی درخواست کی شدید مخالفت کرتے بھارتی خفیہ ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے بھرپور دلائل دیئے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بھارت نے عدالت کے روبرو دوران سماعت حقائق کو چھپایا ہے تاکہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر کلبھوشن یادیو کو موت کی جو سزا سنائی گئی ہے اس پر سٹی آرڈر حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو اس بات سے آگاہ نہیں کیا گیا کہ کلبھوشن کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے گرفتار کیا گیا جس کے پاس دوہرے پاسپورٹ اور پیدائش کی سرٹیفکیٹس ہیں‘ کلبھوشن نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں اور نہتے شہریوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ پاکستان کے وکیل نے عالمی عدالت انصاف میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہر ملک کو یہ اختیار ہے کہ وہ دہشت گردی میں ملوث افراد کو سزا دے اور عالمی عدالت انصاف ایسے فوجداری مقدمات میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ خاور قریشی نے کہا کہ سٹی آرڈر کی بھارتی درخواست نقائص سے بھرپور ہے اور اس میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ درخواست میں کلبھوش یادیو کے جعلی پاسپورٹوں کے معاملے اور پاکستان کی جانب سے بھارتی ایجنٹ کی گرفتاری کے متعلق دیئے جانے والے ثبوتوں پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ پاکستانی وکیل خاور قریشی نے عالمی عدالت انصاف کی جانب سے سُنائے گئے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 41 کے تحت 6 مہینے کے بعد سزا کو ایمرجنسی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

Leave a Reply