کراچی۔ 03 اپریل (اے پی پی):پاکستان ہاکی فیڈریشن ( پی ایچ ایف )نے متوازی فیڈریشن قائم کرنے کی کوششوں میں ملوث عناصر کی ایف آئی ایچ ، اذلان شاہ کپ مینجمنٹ اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو تحریراً مطلع کردیا، اذلان شاہ کپ مینجمنٹ نے پی ایچ ایف سے غیرمتعلقہ شخص سے کمیونکیشن کے معاملہ میں معذرت کرلی ، آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ سلطان اذلان شاہ کپ مینجمنٹ ای میل …
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے متوازی فیڈریشن قائم کرنے کی کوششوں میں ملوث عناصر کی ایف آئی ایچ اور دیگر کو تحریرا مطلع کردیا،حیدرحسین

مزید خبریں
کراچی۔ 03 اپریل (اے پی پی):پاکستان ہاکی فیڈریشن ( پی ایچ ایف )نے متوازی فیڈریشن قائم کرنے کی کوششوں میں ملوث عناصر کی ایف آئی ایچ ، اذلان شاہ کپ مینجمنٹ اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو تحریراً مطلع کردیا، اذلان شاہ کپ مینجمنٹ نے پی ایچ ایف سے غیرمتعلقہ شخص سے کمیونکیشن کے معاملہ میں معذرت کرلی ، آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔
سلطان اذلان شاہ کپ مینجمنٹ ای میل کا متن، علم میں آیا کہ متوازی فیڈریشن قائم کرنے کی کوششوں میں ملوث عناصر ایف آئی ایچ اور دیگر انٹرنیشنل فورمز پر رابطہ کررہے تھے، اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے لئے ٹیم ہم بھیجیں گے۔ بطور سیکرٹری پی ایچ ایف میری آئینی ذمہ داری ہے کہ میں ایف آئی ایچ سمیت سب انٹرنیشنل و نیشنل فورمز کو مطلع کروں، معزز عدالت سے درخواست کرینگے کہ پی ایچ ایف بینک اکائونٹس کا معاملہ دیکھے، رانا مجاہد اینٹی سپورٹس سرگرمیوں پر پہلے بھی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سے 10سالہ پابندی کا سامنا کرچکے ہیں۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل حیدر حسین نے پاکستان ہاکی فیڈریشن آفس، عبدالستار ایدھی ہاکی اسٹیڈیم کراچی میں پاکستان ہاکی کے نامور اور مایہ ناز اولمپیئنز، اولمپکس گولڈ میڈلسٹ، پرائیڈ آف پرفارمنس، عالمی کپ گولڈ میڈلسٹ کھلاڑیوں اولمپیئن کلیم اللہ خان، اولمپیئن حنیف خان، اولمپیئن ناصر علی، اولمپیئن وسیم فیروز کے ہمراہ بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن اپنی آئینی حدود میں کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نگران حکومت نے مینڈیٹ کے خلاف میر طارق میسوری کو ایڈہاک صدر نامزد کیاتاکہ ملک بھر میں سکروٹنی اور پی ایچ ایف الیکشن کرائے جائیں۔ نگران حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف اس وقت کے صدر پی ایچ ایف خالد سجاد کھوکھر عدالت چلے گئے جوکہ بعد ازاں مستعفی ہوگئے۔ نگران حکومت نے طارق میسوری کو دوبارہ ترمیمی نوٹ میں صدر پی ایچ ایف نامزد کیا تاہم وہ سیٹ پکی کرنے کے چکر میں پڑ گئے اور مینڈیٹ سے ہٹ گئے۔
پی ایچ ایف کانگریس نے شہلا رضا کو اتفاق رائے سے صدر منتخب کرلیا ہے۔ سیکرٹری جنرل پی ایچ ایف حیدر حسین نے مزید کہا کہ طارق میسوری نگران حکومت کی محض نامزدگی کی بنیاد پر صدر پی ایچ ایف کے عہدہ کے قابل نہیں، انکو پی ایچ ایف آئین 15 کے تحت نامز کیا گیا نہ کہ صدر بنا دیا گیا بلکہ پی ایچ ایف آئین آرٹیکل (8۔12 )واضح کہتا ہے کہ تمام اتھارٹی پی ایچ ایف کانگریس کو حاصل ہے، پی ایچ ایف آئین (17) میں واضح ہے کہ پی ایچ ایف کانگریس صدر سمیت دیگر تمام عہدوں کا انتخاب کرے گی۔
سیکرٹری جنرل پاکستان ہاکی فیڈریشن حیدر حسین نے کہا کہ متوازی فیڈریشن کے قیام کی کوششوں میں ملوث عناصر نے ایف آئی ایچ سمیت دیگر انٹرنیشنل فورمز کو بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی جس پر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے تمام اداروں کو اس بابت مطلع کردیا ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی غیر متعلقہ شخص سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی وساطت سے رابطہ نہ کیا جائے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن اس بابت کسی قسم کی ذمہ دار نہ ہوگی۔
جس پر سلطان ازلان شاہ کپ مینجمنٹ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ای میل کردی ہے اور اس میں معذرت کی ہے اور دوبارہ اس کو نہ دہرانے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے لئے ٹیم ہم بھیجیں گے۔سیکرٹری جنرل پاکستان ہاکی فیڈریشن حیدر حسین نے کہا کہ پی ایچ ایف کے بینک اکائونٹ آپریشن سے متعلق معزز عدالت سے رجوع کریں گے تاکہ کسی قسم کا سقم باقی نہ رہے اور اس میں ڈالی گئی بندشوں اور تبدیلیوں کو آئینی اور قانونی تناظر میں دیکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پی ایچ ایف اکاونٹس کے متعلق بینک انتظامیہ کو مکمل طور پر مطلع رکھا گیا ہے تاکہ کوئی قانونی اعتراض نہ رہے۔ اس بابت بینک انتظامیہ کے ساتھ آفیشل کمیونیکیشن ریکارڈ بھی موجود ہے۔ حال ہی میں بینک نے تمام لیگل دستاویزات مانگی ہیں جو کہ فراہم کردی گئی ہیں۔عید کے بعد سکروٹنی کا عمل شروع کریں گے تاکہ پی ایچ ایف کانگریس کو مکمل کیا جاسکے۔ اس مقصد کے لئے کانگریس ممبران کی مشاورت کے بعد صدر پی ایچ ایف سیدہ شہلا رضا نے سکروٹنی کوآرڈینیٹرز کی بھی منظوری دے دی ۔
پنجاب میں اولمپیئن شہناز شیخ، کرنل (ر) مکرم خان،شاہد اقبال راجہ، اولمپیئن ریحان بٹ، اولمپیئن محمد ثقلین، اولمپیئن ڈاکٹر عاطف بشیر، اولمپیئن دلاور حسین، اولمپیئن طارق عزیز، اولمپیئن محمد جاوید، عمران بٹ انٹرنیشنل، قدیر بشیر انٹرنیشنل، قمر ضیا، مبشر علی،طاہر شریف، ، قمر اکرام، ملک محمد اکبر ایڈووکیٹ، اویس سلطان پاشا ایڈووکیٹ شامل ہیں۔ کے پی کے میں اولمپیئن رحیم خان، اولمپیئن نعیم اختر، رئوف لالہ انٹرنیشنل، محمد طفیل، افسار علی اور آصف جہاں شامل ہیں۔
بلوچستان میں امجد پرویز ستی، جہانگیر لانگو، عبدالولی، کامران صابر، حاجی ذوالفقار شامل ہیں ۔ سندھ میں بیرسٹر عامر عزیز، کرنل ر محمد اعظم، اولمپیئن ناصر علی، اولمپیئن وسیم فیروز، لئیق لاشاری انٹرنیشنل، میجر ر شاہنواز خان، ایس ایس پی ر اعجاز الدین، ذوالفقار حسین، طلعت محمود، آصف مائیکل شامل ہیں۔
گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور فیڈرل میں سید مصطفین کاظمی ایڈووکیٹ، کرنل ر محسن علی،ڈاکٹر احسن تنویر، راجہ مشتاق، منور عباس ، راجہ ممتاز عارف شامل ہیں۔ اولمپکس گولڈ میڈلسٹ، پرائیڈ آف پرفارمنس، عالمی کپ گولڈ میڈلسٹ و سابق کپتان پاکستان ہاکی ٹیم اولمپیئن کلیم اللہ خان چیئرمین قومی ہاکی سلیکشن کمیٹی نے کہا کہ ہاکی کے مسائل کا حل صرف وزیراعظم کے پاس ہے، ہاکی کے مسائل کا حل صرف وزیراعظم کے پاس ہے، وزیراعظم جتنی جلدی ہوسکے حل کریں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مسئلہ حل نہیں کیا تو ایف آئی ایچ 12 سال کی پابندی لگا سکتی ہے۔اولمپکس گولڈ میڈلسٹ، پرائیڈ آف پرفارمنس، عالمی کپ گولڈ میڈلسٹ و سابق کپتان پاکستان ہاکی ٹیم اولمپیئن حنیف خان نے کہا کہ اولمپیئن عزت چاہتا ہے جب عزت نہیں ہوگی تو کون ساتھ دے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے اپیل کرتا ہوں کہ ہاکی کے معاملات دیکھیں، متوازی فیڈریشن کے معاملے کو فوری حل کریں۔ اولمپیئن حنیف خان کہا کہ رانا مجاہد نے ماضی میں ہاکی کی کونسی خدمت کی ہے؟ موازنہ کیا جائے کہ رانا مجاہد اور حیدر حسین میں کس نے کرپشن کی ۔اولمپکس گولڈ میڈلسٹ، پرائیڈ آف پرفارمنس، عالمی کپ گولڈ میڈلسٹ و سابق کپتان پاکستان ہاکی ٹیم اولمپیئن ناصر علی نے کہا کہ نگران حکومت نے طارق میسوری کو ایڈہاک صدر لگایا لیکن وہ اپنے مینڈیٹ سے ہٹ گئے، سلیکشن کے معاملات میں قومی ہاکی سلیکشن کمیٹی سے مشاورت نہیں کی گئی۔
پرائیڈ آف پرفارمنس، عالمی کپ گولڈ میڈلسٹ اولمپین وسیم فیروز نے کہا کہ ہم وزیراعظم پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں اور وزیراعظم ہاکی کی طرف دیکھیں تاکہ پاکستان ہاکی کے معماملات درست ہوسکیں۔سیکرٹری پی ایچ ایف حیدر حسین نے مزید کہا کہ ایف آئی اے 113 پیرے کی تحقیات کررہی ہے۔
ماضی میں ہاکی فیڈریشن میں 150 ارب روپے کی کیش پر لین دین کی گئی ۔ایک کروڑ روپے کے لگ بھگ رقم کی ہاکیاں دی باس نامی کمپنی سے خلاف ضابطہ خرید کی گئی جس کو کیش چیکس سے ادائیگی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کے ڈیلی الانس بھی کم کر دیئے گئے ہیں،کھلاڑی مشکل میں ہیں، اس بابت منسٹری آئی پی سی کو بھی خط لکھا ہے۔







