پاک فوج اور اس کے سربراہ پر تنقید بلیک میلنگ ہے ،کسی کے کندھے پر بیٹھ کر اقتدار تک پہنچنے والے آج اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں، طلال چوہدری کا ویڈیو بیان

اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاک فوج اور اس کے سربراہ پر تنقید بلیک میلنگ ہے ،یہ لوگ پھر کسی کندھے کے ذریعے اقتدار چاہتے ہیں،کسی کے کندھے پر بیٹھ کر اقتدار تک پہنچنے والے آج اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں، معرکہ حق میں دشمن کو شکست دینے والی پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، پی …

اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاک فوج اور اس کے سربراہ پر تنقید بلیک میلنگ ہے ،یہ لوگ پھر کسی کندھے کے ذریعے اقتدار چاہتے ہیں،کسی کے کندھے پر بیٹھ کر اقتدار تک پہنچنے والے آج اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں، معرکہ حق میں دشمن کو شکست دینے والی پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، پی ٹی آئی کے پشاور جلسے میں اداروں پر الزام تراشی کی گئی، ہر روز بانی پی ٹی آئی کے ایکس ہینڈل سے ملکی اداروں کےخلاف بے جا تنقید کی جاتی ہے، کب تک کوئی خاموشی اختیار کر سکتا ہے۔

اپنے ویڈیو بیان میں طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ عوام نے پشاور میں پی ٹی آئی جلسے میں ان کا حال دیکھ لیا ہے، پشاور جلسے میں سوائے گالم گلوچ اور تنقید کے کچھ نہیں تھا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان کے بارے میں جو باتیں محاورتاً بولیں پشاور کے جلسے میں ثابت ہو گیا کہ یہ اصل میں وہی ہیں۔

وزیر مملکت نے پی ٹی آئی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خود کو سب سے ضروری اور ناگزیر سمجھنے والا ذہنی مریض ہی ہو سکتا ہے، اب بات چیت کی دعوت نہیں دی جائے گی۔وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ یہ لوگ اڈیالہ جیل میں قید دوسرے قیدیوں کیلئے بھی خطرہ بن رہے ہیں، یہ اگر اب اڈیالہ کے باہر تماشا کریں گے، جیل میں قید دوسرے قیدیوں کے لئے خطرہ بنیں گے تو قیدی کو وہاں رکھا جائے گا جہاں وہ محفوظ ہوں، شعبدہ بازوں کو بتایا جائے گا کہ قانون کی عملداری کیسے ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس جماعت کا وطیرہ ہے کہ پاکستان کے اداروں پر تنقید کی جائے، ذہنی مریض کبھی بھی ملک کے حق میں بات نہیں کرے گا، ذہنی مریض سے کسی کو بھی فیض حاصل نہیں ہوگا، کندھے نہ ہوتے تو آپ تو وزیراعظم بھی نہیں بن سکتے تھے، جو ہری پور کا الیکشن نہیں جیت سکتے وہ لاہور اور فیصل آباد میں کیا مقابلہ کریں گے۔

مزید خبریں