پشاور بم دھماکہ میں ملوث عناصر پاکستان کی افغانستان میں امن کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، حافظ طاہر محمود اشرفی کی مختلف مذہبی مکاتب فکر کے مندوبین سے گفتگو

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی، مشرق وسطیٰ اور پاکستان علماءکونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پشاور بم دھماکہ میں ملوث عناصر پاکستان کی افغانستان میں امن کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔منگل کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق مختلف مذہبی مکاتب فکر کے مندوبین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اور …

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی، مشرق وسطیٰ اور پاکستان علماءکونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پشاور بم دھماکہ میں ملوث عناصر پاکستان کی افغانستان میں امن کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔منگل کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق مختلف مذہبی مکاتب فکر کے مندوبین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اور افواج نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیا ہے۔ علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں انتشار پھیلانے کی سازشوں اور فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ملوث رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں دہشت گردی میں شریک عالمی دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی میں بھی ملوث رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور ملک میں فرقہ وارانہ اور نسلی تشدد کرنے میں بھی شریک رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی لابی پاکستان میں انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنے اور پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لئے پاکستان میں سوشل میڈیا ویب سائیٹوں کے ذریعے پروپیگنڈا کر رہی ہے۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ بھارت افغانستان میں پاکستان کی امن کوششوں کو خراب کرنا چاہتا ہے اور اب بھارتی خفیہ ایجنسی دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لئے لاکھوں روپے فراہم کر رہی ہے۔ دریں اثناءحافظ طاہر محمود اشرفی نے قومی مفاہمتی کونسل کے وفد سے بھی ملاقات کی اور فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی صدر نے گستاخانہ طرز عمل کے ذریعے مختلف مذاہب کے پیروکاروں میں اختلافات پیدا کر دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے تعاون سے دفتر خارجہ نے اس ضمن میں متفقہ موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کی تعلیمات کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام نے کسی بھی شکل میں انتہاءپسندی اور دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔ حصرت محمدﷺ پوری کائنات کے لئے رحمت اللعالمین ہیں اور آزادی اظہار رائے کی آزادی کی وجہ سے کسی کو بھی اسلام کے مقدسات کی بے حرمتی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔