پمز میں کورونا وائرس کے 260 مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ لئے گئے، 20 مریضوں میں کورونا ٹیسٹ مثبت آیا، آئسولیشن وارڈ میں 9 مریض زیر علاج ، 2 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے

اسلام آباد ۔ 24 مارچ (اے پی پی) پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انصر محمود نے کہا ہے کہ پمز میں اب تک کورونا وائرس کے 1200 سے زائد مشتبہ کیسز آئے، 260 مریضوں کے ٹیسٹ لئے گئے، 20 مریضوں میں کرونا ٹیسٹ مثبت آیا، آئسولیشن وارڈ میں اس وقت 9 مریض زیر علاج ہیں، 2 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ منگل کو میڈیا کو پریس …

اسلام آباد ۔ 24 مارچ (اے پی پی) پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انصر محمود نے کہا ہے کہ پمز میں اب تک کورونا وائرس کے 1200 سے زائد مشتبہ کیسز آئے، 260 مریضوں کے ٹیسٹ لئے گئے، 20 مریضوں میں کرونا ٹیسٹ مثبت آیا، آئسولیشن وارڈ میں اس وقت 9 مریض زیر علاج ہیں، 2 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ منگل کو میڈیا کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 29 بیڈز پر مشتمل نیا وارڈ قائم کیا جا رہا ہے، آئندہ 15 دن میں وارڈز میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ کسی بھی قسم کی کمی کا سامنا نہ ہو، تمام معاملات این ڈی ایم اے دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نرسوں اور ڈاکٹروں کو سہولت دینے کے حوالے سے کام کر رہے ہیں، میڈیکل عملے کا بچائو ہماری پہلی ترجیح ہے، امید ہے آنے والے دنوں میں ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پمز کی او پی ڈی میں 10 ہزار مریض آتے ہیں، او پی ڈی میں مریضوں کی آمد میں کافی کمی ہوئی ہے، ڈاکٹر ظفر مرزا کی ہدایات پر پمز کے تمام شعبوں کی او پی ڈیز بند کر دی گئی ہیں، زیادہ تر بیمار افراد کو ایمرجنسی میں دیکھا جا رہا ہے۔ او پی ڈی دو سے تین ماہ تک بند کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پمز ہسپتال کی انتظامیہ پوری کوشش کر رہی ہے کہ ہر کام بخوبی سرانجام دیا جائے۔ اوپی ڈی میں کئی مریض روزانہ آتے ہیں، یہ مرض تیزی سے پھیل رہا جس کے لئے احتیاط ضروری ہے، ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ او پی ڈی کی سروس کو بند کر دیا جائے۔ ایمرجنسی میں تمام سہولیات موجود ہیں وہاں زیادہ بیمار لوگوں کا علاج کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سرجیکل ماسک کی کوئی کمی نہیں، وافر مقدار میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئسولیشن میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کو کٹس اور ضروری سامان مہیا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ این ڈی ایم اے کی جانب سے دو مزید وینٹی لیٹرز فراہم کئے گئے ہیں۔