پنجاب میں دیسی گائے کی جینیاتی بہتری کا منصوبہ، دودھ اور گوشت کی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع

ملتان۔ 02 نومبر (اے پی پی):محکمہ لائیوسٹاک و ڈیری ڈیویلپمنٹ پنجاب نے دیہی علاقوں میں پائی جانے والی دیسی یا نان ڈسکرپٹو گائے کی جینیاتی بہتری کے لیے ایک اہم منصوبے کا آغاز کر دیا ہے، جسے مویشی پال حضرات کے لیے شعبہ لائیوسٹاک کی تاریخ کا ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر لائیوسٹاک ڈاکٹر جمشید اختر نے اے پی پی کو بتایا کہ پنجاب حکومت اس …

ملتان۔ 02 نومبر (اے پی پی):محکمہ لائیوسٹاک و ڈیری ڈیویلپمنٹ پنجاب نے دیہی علاقوں میں پائی جانے والی دیسی یا نان ڈسکرپٹو گائے کی جینیاتی بہتری کے لیے ایک اہم منصوبے کا آغاز کر دیا ہے، جسے مویشی پال حضرات کے لیے شعبہ لائیوسٹاک کی تاریخ کا ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر لائیوسٹاک ڈاکٹر جمشید اختر نے اے پی پی کو بتایا کہ پنجاب حکومت اس منصوبے پر ایک ارب روپے کی لاگت سے کام کر رہی ہے، جس کے تحت ایک ملین سے زائد اعلیٰ نسل کے سیمن ڈوزز انتہائی کم نرخوں پر فراہم کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ برہمن نسل کا سیمن ڈوز صرف 500 روپے اور فریزین نسل کا سیمن ڈوز صرف 150 روپے میں دستیاب ہے۔ڈاکٹر جمشید اختر کے مطابق جنوبی پنجاب سمیت صوبے کے بیشتر دیہی علاقوں میں دیسی نسل کی گائیں پائی جاتی ہیں جن کی دودھ دینے کی صلاحیت کم ہے۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد ان دیسی گایوں کی نسل کو جدید سائنسی بنیادوں پر بہتر بنانا ہے تاکہ ان کی دودھ اور گوشت کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکے۔

اس سے نہ صرف مویشی پال کسانوں کی آمدنی بڑھے گی بلکہ ان کے معیارِ زندگی میں بھی بہتری آئے گی۔انہوں نے بتایا کہ صرف وہی گائے اس منصوبے کے لیے موزوں ہو گی جو روزانہ کم از کم تین سے پانچ لیٹر دودھ دیتی ہو، صحت مند ہو، تولیدی لحاظ سے فعال ہو، کسی جسمانی یا تولیدی بیماری میں مبتلا نہ ہو اور کم از کم ایک بار بچھڑا دے چکی ہو۔ڈاکٹر جمشید نے کہا کہ اعلیٰ معیار کے سیمن کے استعمال سے پیدا ہونے والی نئی نسل کی گائیں زیادہ پیداوار دینے والی اور مضبوط ہوں گی۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا روایتی مویشی پال نظام جدید سائنسی بنیادوں پر استوار ہو، تاکہ کسان کو حقیقی فائدہ پہنچے اور صوبے کی معیشت مضبوط ہو۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تحقیقی اداروں میں بھی جینیاتی بہتری پر کام جاری ہے، جس سے اعلیٰ نسل کے بیل تیار ہوں گے اور فیلڈ سٹاف و کسانوں کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔ڈپٹی ڈائریکٹر نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے قریبی ویٹرنری ہسپتال یا مستند نسل کشی ٹیکنیشن سے رابطہ کریں تاکہ وہ بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

محکمہ لائیوسٹاک پنجاب کسانوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی معاشی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔ یہ پروگرام نہ صرف دودھ اور گوشت کی بڑھتی ہوئی ملکی طلب کو پورا کرے گا بلکہ دیہی معیشت کو مضبوط بنانے میں بھی سنگِ میل ثابت ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ بہتر نسل، زیادہ دودھ، زیادہ آمدنی اور خوشحال کسان، یہی اس منصوبے کا اصل مقصد ہے۔