اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ مالی سال 26۔2025کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملک کے سمندری فشریز سیکٹر نے نمایاں ترقی کی جس کے نتیجے میں جولائی سے دسمبر 2025کے دوران سمندری خوراک (سی فوڈ) کی برآمدات 1 لاکھ 22 ہزار 629 میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں جن کی مجموعی مالیت 253.24 ملین ڈالر رہی۔ میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ …
پہلے چھ ماہ میں سمندری خوراک کی برآمدات میں 22 فیصد اضافہ، حجم 253 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، جنید انوار چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ مالی سال 26۔2025کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملک کے سمندری فشریز سیکٹر نے نمایاں ترقی کی جس کے نتیجے میں جولائی سے دسمبر 2025کے دوران سمندری خوراک (سی فوڈ) کی برآمدات 1 لاکھ 22 ہزار 629 میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں جن کی مجموعی مالیت 253.24 ملین ڈالر رہی۔ میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ اعدادوشمار پر تبصرہ کرتے ہوئے جمعہ کو وفاقی وزیر نے کہا کہ برآمدات میں یہ اضافہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی سمندری فشریز کی بڑھتی ہوئی مسابقت اور مسلسل برآمدی رفتار کا عکاس ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال25۔2024کے اسی عرصے میں برآمدات کا حجم 1 لاکھ 2 ہزار 942 میٹرک ٹن اور مالیت 208.25 ملین ڈالر تھی۔اس طرح رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں مقدار کے لحاظ سے 19.1 فیصد جبکہ مالیت کے اعتبار سے 21.6 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔جنید انوار چوہدری نے کہا کہ فشریز کا شعبہ قومی بحری معیشت کا ایک اہم ستون ہے جو بحیرہ عرب کے ساحلی علاقوں بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ شعبہ تاریخی طور پر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً ایک فیصد حصہ ڈالتا رہا ہے اور کورونا وباء کے بعد اس نے جدید پروسیسنگ سہولیات، بہتر کولڈ چین لاجسٹکس اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سخت سرٹیفکیشن کے ذریعے دوبارہ مضبوطی حاصل کی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق فروزن مچھلی بدستور سب سے بڑی برآمدی شے رہی جس کی مقدار 26 ہزار 669 میٹرک ٹن اور مالیت 53.33 ملین ڈالر رہی۔ اس کے بعد جھینگا اور پرونز کی برآمدات سے 40.46 ملین ڈالر جبکہ فروزن کٹل فش سے 36.13 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ جھینگا میل، کیکڑے، سارڈین، میکریل، فلیٹ فش اور فش میل سمیت دیگر مصنوعات نے بھی برآمدی آمدن میں اضافے میں کردار ادا کیا جو ویلیو ایڈڈ پروسیسنگ اور تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔ چین بدستور پاکستان کی سمندری خوراک کا سب سے بڑا خریدار رہا جہاں 83 ہزار 602 میٹرک ٹن سے زائد برآمدات کی گئیں جن کی مالیت 149.2 ملین ڈالر رہی جو مجموعی برآمدات کا تقریباً 59 فیصد بنتی ہے۔
تھائی لینڈ 31.3 ملین ڈالر کی درآمدات کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا جہاں جھینگا اور پرونز کی طلب میں اضافہ پاکستان کے سرٹیفائیڈ پروسیسنگ معیار کے باعث ممکن ہوا۔ متحدہ عرب امارات، ملائیشیا اور جاپان بھی نمایاں خریداروں میں شامل رہے جہاں کٹل فش اور فش میل کی برآمدات میں اضافہ دیکھا گیا۔ وفاقی وزیر کے مطابق یورپی یونین، سعودی عرب، ویتنام، کویت اور امریکا میں بھی مارکیٹ ڈائیورسفکیشن کی پالیسی کے تحت برآمدات میں توسیع ہوئی ہے۔ ماہانہ اعدادوشمار کے مطابق نومبر میں برآمدات 56.42 ملین ڈالر اور دسمبر میں 55 ملین ڈالر کی سطح پر پہنچ گئیں جس میں موسمی طلب اور لاجسٹکس میں بہتری نے اہم کردار ادا کیا۔ فشریز سیکٹر سے نان ٹیکس ریونیو بھی بڑھ کر 127.7 ملین روپے (تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار ڈالر) ہو گیا جو گزشتہ سال 118 ملین روپے تھا۔
جنید انوار چوہدری نے اس پیش رفت کو وزارت بحری امور کی حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا جن میں عالمی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے ساتھ پائیدار ماہی گیری کے منصوبے اور کراچی و گوادر بندرگاہوں پر انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترقی زرمبادلہ کے ذخائر اور معاشی استحکام میں فشریز سیکٹر کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتی ہے تاہم سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے سخت ریگولیٹری عملدرآمد اور پائیدار ماہی گیری ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر نے ماحولیاتی تبدیلی کے باعث مچھلیوں کی نقل مکانی جیسے چیلنجز کا بھی اعتراف کیا تاہم کہا کہ ای ڈی این اے مانیٹرنگ جیسے جدید طریقے اور بلیو اکانومی حکمت عملی تیزی سے فروغ پا رہی ہے جس کے ذریعے پاکستان آئی ایم او کنونشنز سے ہم آہنگی اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔








