چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کی پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 23 مارچ (اے پی پی)آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا ہے کہ حکومت کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے پرعزم ہے، این ڈی ایم اے کو تمام ضروری فنڈز مہیا کر دیئے گئے ہیں، چین میں پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے چینی حکام کے ساتھ وینٹی لیٹرز اور ٹیسٹنگ آلات کی فراہمی کے لئے مذاکرات ہو …

اسلام آباد ۔ 23 مارچ (اے پی پی)آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا ہے کہ حکومت کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے پرعزم ہے، این ڈی ایم اے کو تمام ضروری فنڈز مہیا کر دیئے گئے ہیں، چین میں پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے چینی حکام کے ساتھ وینٹی لیٹرز اور ٹیسٹنگ آلات کی فراہمی کے لئے مذاکرات ہو رہے ہیں، گورنر سٹیٹ بینک نے چھٹی کے باوجود ون ونڈو کی سہولت فراہم کر دی ہے۔ انہوں نے اس خوشی کا اظہار کیا کہ ایک پاکستانی انجینئر نے وینٹی لیٹر ڈیزائن کیا ہے جس کا عملی مظاہرہ وہ خود دیکھیں گے۔ پیر کو یہاں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار اور وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ حکومت پاکستان کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے تمام ممکنہ ذرائع بروئے کار لا رہی ہے، حکومت نے این ڈی ایم اے کو مناسب فنڈز فراہم کر دیئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر این ڈی ایم اے اپنا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے نے جو حکمت عملی اپنائی ہے وہ تین مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ 5 اپریل تک ہے اس مرحلے میں بیرون ممالک سے آنے والے مسافروں کی سکریننگ اور کرونا وائرس سے نمٹنے والے عملے بالخصوص طبی عملے کو ذاتی تحفظ کی اشیاءاور ساز و سامان کی فراہمی شامل ہے۔ توقع ہے کہ عملے کو آلات کی فراہمی کا ہدف 5 اپریل کی بجائے 30 مارچ تک مکمل ہو جائے گا۔ لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا کہ چین میں پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے چینی حکام کے ساتھ وینٹی لیٹرز اور ٹیسٹنگ آلات کی فراہمی کے لئے مذاکرات ہو رہے ہیں، گورنر سٹیٹ بینک نے چھٹی کے باوجود ون ونڈو کی سہولت فراہم کر دی ہے جبکہ پاکستان کے چار بینک بھی چھٹی کے باوجود کام کر رہے ہیں، این ڈی ایم اے نے پاکستان میں چین کے سفارتخانے کو اس ہفتے کی خریداری کے لئے رقم فراہم کر رہا ہے، 125 ٹن سامان اور آلات کی پاکستان منتقلی کے لئے پی آئی اے کے ساتھ رابطے میں ہیں اور امید ہے کہ جمعہ یا ہفتہ تک اس سامان کو پاکستان پہنچایا جا سکے گا۔ اس سامان میں 120 وینٹی لیٹر شامل ہیں، چین نے پہلے ہی 15 وینٹی لیٹرز پاکستان کو دیئے ہیں، آج صبح چینی سفیر نے پیغام دیا کہ 14 ٹن آلات اور کچھ وینٹی لیٹرز جمعہ کے روز پاکستان کے حوالے کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ 5 اپریل تک کرونا ٹیسٹ کی کٹس بھی دستیاب ہوں گی جس سے ہم 10 سے 15 لاکھ ٹیسٹ کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔ دوسرے مرحلے میں وینٹی لیٹرز کی تعداد کو 1200 اور تیسرے مرحلے میں چار ہزار تک حاصل کرنے کی بھرپور کوشش ہو گی۔ لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا کہ پاکستان کے اپنے ادارے ماسک، گاﺅن اور دیگر حفاظتی آلات تیار کرنے میں لگے ہیں، یہ بات خوش آئند ہے کہ ایک پاکستانی انجینئر نے وینٹی لیٹر ڈیزائن کیا ہے جس کا عملی مظاہرہ آج میں خود دیکھوں گا، اسی طرح ایک ادارے نے سینی ٹائزر بنایا ہے اور مختصر وقت میں اس کی دستیابی یقین ہو گی۔ انہوں نے بحران کے اس دور میں چین کی مدد کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ چینی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم پاکستان آ رہی ہے جو چاروں صوبوں کا دورہ کرے گی۔ یہ ٹیم ڈاکٹروں، انتظامیہ اور عوام کی رہنمائی کرے گی کہ اس آفت سے کس طرح سے نمٹا جا سکتا ہے۔ علی بابا کے مالک نے پاکستان کے لئے پانچ لاکھ ماسک دینے کا اعلان کیا ہے جن میں سے 50 ہزار ماسک این 95 ماڈل کے ہیں، اسی طرح 50 ہزار ٹیسٹ کٹس کا تحفہ بھی آئے گا۔ انہوں نے قوم کو یقین دلایا کہ حکومت، این ڈی ایم اے، وزارت صحت اور دیگر متعلقہ ادارے بحران کے اس دور میں پرعزم ہیں۔ قبل ازیں وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے بتایا کہ فلائٹ آپریشن کی بندش کی وجہ سے پاکستان آنے والے وہ مسافر جو مختلف ممالک میں رک گئے تھے، ان کے حوالے سے متعلقہ ممالک اور ایئر لائن سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، قطر میں ٹرانزٹ میں رہنے والے بعض مسافر آج رات پاکستان پہنچ رہے ہیں، متحدہ امارات میں رکنے والے مسافر جلد ایک خصوصی پرواز کے ذریعے ملک آئیں گے۔ استنبول میں ٹھہرے ہوئے پاکستانی مسافروں کو ترکی کا ویزہ اور رہائش سفارتخانے اور قونصل خانے کے ذریعے مہیا کر دی گئی ہے، آئندہ 24 گھنٹوں میں اس حوالے سے لائحہ عمل وضع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک مرتبہ پھر بیرون ملک ان پاکستانیوں سے اپیل کر رہے ہیں جو پاکستان آنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ فی الوقت وہ سفر کا ارادہ ملتوی کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جو حفاظتی اقدامات اٹھائے ہیں وہ ان شہریوں اور ان کے پاکستان میں اہل خانہ کے تحفظ کے لئے اٹھائے ہیں۔