چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت اجلاس، کارکردگی کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد ۔ 10 فروری (اے پی پی)قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ہیڈ کوارٹرز میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں نیب کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈی جی آپریشنز نیب ظاہر شاہ نے بتایا کہ نیب کو سال 2019ءمیں مجموعی طور پر 51591 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 46123 شکایات کو قانون کے مطابق نمٹا دیا …

اسلام آباد ۔ 10 فروری (اے پی پی)قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ہیڈ کوارٹرز میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں نیب کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈی جی آپریشنز نیب ظاہر شاہ نے بتایا کہ نیب کو سال 2019ءمیں مجموعی طور پر 51591 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 46123 شکایات کو قانون کے مطابق نمٹا دیا گیا جبکہ اس وقت 13299 شکایات پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ نیب نے سال 2019ءمیں 1464 شکایات پر جانچ پڑتال کی منظوری دی جن میں سے 1362 شکایات کی جانچ پڑتال کو قانون کے مطابق مکمل کیا گیا جبکہ اس وقت 770 شکاےات کی جانچ پڑتال پر قانون کے مطابق تحقیقات جاری ہیں۔ نیب نے سال 2019 میں 574 انکوائرےوں کی منظوری دی جبکہ658 انکوائریوں کومکمل کیا گیا۔ اس وقت 859 انکوائرےوں پر قانون کے مطابق تحقیقات جا رہی ہیں۔ اسی طرح نیب نے سال 2019ءمیں 221 انوسٹی گیشنزکی منظوری دی جن میں سے 217 انوسٹی گیشنز پرقانون کے مطابق کارروائی مکمل کی گئی۔ اس وقت 335 انوسٹی گیشنز پر قانون کے مطابق تحقیقات جاری ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نے بدعنوان عناصر سے 178 ارب روپے برآمد کرکے بدعنوانی کے تقریباً 600 ریفرنسز معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے۔ اس وقت ملک کی 25 معزز احتساب عدالتوں میں نیب کے 1275 بدعنوانی کے ریفرنس زیرسماعت ہیں جن کی کل مالیت تقریباً 944 ارب روپے ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا اور بدعنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی نیب کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے نیب کے تمام ڈی جیز کو ہدایت کی کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق مقررہ وقت کے اندر منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے نیب کے تمام انوسٹی گیشنز آفیسرز اور پراسیکیوٹرز کو ہدایت کی کہ تمام وائیٹ کالر مقدمات کی تحقیقات سائنسی بنےادوںپر ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ معزز احتساب عدالتوں میں ان کی مو¿ثر پیروی کی جائے تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدا لت میںقانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کےلئے 10 ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ قومی احتساب بےورو نے اپنے ہر علاقائی دفتر میں ایک شکایت سیل بھی قائم کیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ نیب کی مجموعی طور پر احتساب عدالتوں میں بدعنوان عناصر کو سزا دلوانے کی شرح تقریباً 70 فیصد ہے جس کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور کمبائنڈ انوسٹی گیشن کے نظام کے تحت تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے نہ صرف مکمل کیا جائے بلکہ ہر شخص کی عزت نفس کا احترام کیا جائے۔